 |
مصنف، فلمساز اور اداکار وحید مراد
1938-1983 |
ایسی شخصیات کی مقبولیت کا تجزیہ کر کے معاشرہ اپنے بارے میں جان سکتا ہے۔
عام طور پر غیرمعمولی مقبولیت کی وجوہات یہ ہوتی ہیں: سیاسی پس منظر، معاشرے کا ماحول، تاریخی روایات، ادبی اور نفسیاتی استعارے، اقدار اور نصب العین وغیرہ۔
وحید مراد کی غیرمعمولی مقبولیت کا زمانہ مارچ 1966 سے شروع ہوتا ہےجب فلم ارمان ریلیز ہوئی جس کی کہانی اُنہوں نے خود لکھی تھی اور فلمساز بھی وہی تھے۔
چند ماہ پہلے 1965کی جنگ میں کامیابی کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کرنے کے بعد قوم کے حوصلے بلند تھے۔ جنگ کے دوران شروع ہونے والا قومی نغموں اور ترانوں کا دَور ابھی ختم نہیں ہوا تھا بلکہ حُبُ الوطنی پر مبنی ادب کی بہار آئی ہوئی تھی۔
دوسری طرف تاشقند کے معاہدے میں فوجی حکومت نے جو شرائط قبول کی تھیں اُنہیں عام طور پر بزدلی سے تعبیر کیا جا رہا تھا۔ یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عوام کی اُمنگوں کا زیادہ احترام کرتی ہو۔
فلم ارمان میں غیرمحسوس طور پر وہی جذبات موجزن تھے جو قومی نغموں میں استعمال ہوئے تھے، صرف اِس فرق کے ساتھ کہ وہاں محبت کا موضوع وطن تھا اور یہاں محبوب۔ لیکن جو عوام صدیوں سے عشقِ مجازی کی شاعری میں عشقِ حقیقی تلاش کرتے آئے ہوں اُن کے لیے یہ فرق آخر کتنا اہم ہو سکتا تھا؟
یہ اپنی جگہ خود بہت بڑی بات ہے کہ عشقِ مجازی کے لٹریچر میں ایسے جذبات پیش کر دیے جائیں جنہیں آپ وطن سے مخاطب ہو کر کہیں تو آپ کی نظریاتی بنیادوں کی مکمل تشریح بن جائیں۔
دل چاہے تو تجربہ کر لیجیے۔ پاکستان کو مخاطب کر کے مندرجہ ذیل مصرعے پڑھیے اور فیصلہ کیجیے کہ کیا یہ اُس "ارمان"کی مکمل عکاسی نہیں جو پاکستان بنانے والوں کے دلوں میں پاکستان کے لیے تھے؟
دیا حوصلہ جس نے جینے کا ہم کو
وہ اِک خوبصورت سا احساس ہو تم
جو مٹتا نہیں دل سے تم وہ یقیں ہو
ہمیشہ جو رہتی ہے وہ آس ہو تم
یہ سوچا ہے ہم نے کہ اب زندگی بھر
تمہاری محبت کو سجدہ کریں گے
فسانہ جو اُلفت کا چھیڑا ہے تم نے
ادھورا نہ رہ جائے یہ سوچ لینا
بچھڑ کے زمانے سے پایا ہے تم کو
کہیں ساتھ تم بھی نہ اب چھوڑ دینا۔۔۔
اسکرین پر وحید مراد کی جو شخصیت اُبھرتی تھی وہ اِس موضوع کے ساتھ انصاف کرتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ انگریزی ادب میں ایم اے کیا تھا۔ مطالعہ بیحد وسیع تھا۔ نہ صرف ارمان بلکہ بعد کی فلموں میں بھی عام طور پر اُن کا کردار ایسے شخص کا ہوتا تھا جو اپنے ماحول سے غیرمطمئن ہو کر کسی بہتر آئیڈیل کی جستحو کرتا ہے مگر معاشرے کی اخلاقی اقدار کا محافظ بھی ہے۔
اِس کے علاوہ ایک خاص بات تھی۔ یہ طے ہے کہ ہیرو کو ہیرو نظر آنے کے لیے خوداعتمادی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ اِس کے لیے عام طور پر اداکار ایک ایسے انداز کا سہارا لیتے ہیں جس میں دوسروں کو اہمیت نہ دینے کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ وہ فریم میں داخل ہی یوں ہوتے ہیں جیسے شیر شاہ سوری ہمایوں سے سلطنت چھیننے آیا ہو۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ یہ شخص نہ کسی کی بات سنے گا نہ سمجھے گا۔ یوں آپ اُس کی برتری تسلیم کر لیتے ہیں۔ وہ ہیرو بن جاتا ہے۔ وحید مراد کا معاملہ برعکس تھا۔
وحید مراد کے حرکات و سکنات اور لب و لہجے سے ایک عجیب قسم کا اشتیاق ظاہر ہوتا تھا جیسے ہر شخص کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے بیتاب ہیں۔ اِس خواہش میں آپے سے باہر ہوئے جا رہے ہیں کہ جس کے دل میں جو کچھ بھی ہے اُسے محسوس کر لیں۔
یہ انداز صرف وحید مراد ہی کے ساتھ آیا۔ دنیا کے بڑے بڑے سُپراسٹارز سے موازنہ کر لیجیے [اگر آپ فلمیں نہیں دیکھتے تو ٹیلی وژن پر نظر آنے والے کمپئرز یا دانشوروں سے موازنہ کر سکتے ہیں]۔ دلیپ کمار، بریڈ پِٹ، امیتابھ بچن، شاہرُخ خان یا کوئی بھی جسے آپ خواہ وحید مراد سے بڑا اسٹار کہیں یا چھوٹا، وہ اِس بات میں مقابلہ نہیں کر سکتا کہ وحید مراد وہ ہیرو ہے جس کی حرکات و سکنات یعنی پوری باڈی لینگوئج مخاطب کو اہمیت دلوانے میں صرف ہو جاتی ہے۔ وہ اپنا ہیرو ہونا دوسروں کی اہمیت گھٹانے سے نہیں بلکہ بڑھانے سے ثابت کرتا ہے۔
شائد یہ اِس لیے بھی تھا کہ وحید مراد بعد میں اداکار تھے، پہلے ایک مصنف اور فلمساز تھے جن کے پاس کچھ پختہ افکار تھے، پیغام تھے جنہیں وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتے تھے۔
بُدھ کے روز وحید مراد کی برسی ہے۔ اِسی سلسلے میں یہ پوسٹ لکھی لیکن اب سوچ رہا ہوں کہ اِس میں زیادہ تعریف وحید مراد کی ہوئی ہے یا اُس قوم کی جس نے اپنے لیے سپر اسٹار بھی منتخب کیا تو خاصا سُلجھا ہوا۔ پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا۔