Pages

Showing posts with label Politics. Show all posts
Showing posts with label Politics. Show all posts

Friday, 16 December 2011

مشرقی پاکستان

انیس سو ستر میں پاکستان میں انتخابات ہوئے۔ عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی۔ ہارنے والے رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے مطالبہ کیا کہ اقتدار میں انہیں شامل کیا جائے ورنہ اگر مغربی پاکستان سے کوئی نمایندہ ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں گیا تو بھٹو صاحب اُس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ 

انہی دنوں پنجابی فلم "مستانہ ماہی" ریلیز ہوئی۔ فلمساز وحید مراد تھے۔ مصنف حزین قادری تھے۔ فلم مقبول ہوئی۔ 

اُس زمانے میں فلموں میں سیاسی تبصرے کرنا بہت مشکل تھا۔ سینسر پوری فلم پر پابندی لگا سکتا تھا۔ مشرقی پاکستان کا مسئلہ تو اِتنا نازک تھا کہ جیل جانے کی نوبت بھی آ سکتی تھی۔ 

ان پابندیوں کو ذہن میں رکھ کر مندرجہ ذیل ٹکڑا ملاحظہ کیجیے۔ یہ فلم کا ابتدائی حصہ ہے۔ ایک عورت اپنے گاوں آئی ہے۔ بدمعاش نے اُسے روک لیا ہے۔ شوہر سے مطالبہ کیا ہے کہ دو ہزار روپے ادا کرے، تب بیوی کو واپس آنے دیا جائے گا۔

یہ بدمعاش کون ہے؟ گُرگا کہتا ہے، "آج آپ کا موڈ کچھ فارن کنٹری [بیرونی ملک] جیسا لگتا ہے۔" ہیرو اپنے گاوں کے لوگوں سے شکایت کرتا ہے کہ شریفوں کے گھروں کے فیصلے بدمعاش کی بیٹھک میں کیوں پہنچ گئے ہیں، آپ لوگ مل کر خود ہی کیوں نہیں فیصلے کرتے۔

بدمعاش کہتا ہے، میں دیکھوں گا تم لوگ اپنے فیصلے خود کس طرح کرتے ہو۔

کہیں یہ بدمعاش کوئی فارن کنٹری ہی تو نہیں جو نہیں چاہتا تھا کہ ہم اپنے فیصلے 
خود کریں؟ ویڈیو دیکھیے اور فیصلہ کیجیے۔

Tuesday, 13 December 2011

تانگے والے کا قائداعظم

آیے دیکھتے ہیں کہ قائداعظم کس طرح عوام کی بات جاننے کے لیے بیتاب رہتے تھے اور ماننے پر بھی آمادہ تھے [ایک پچھلی پوسٹ میں عرض کیا تھا کہ ہماری مشکلیں دو ہیں کہ ہم عوام کی بات جانتے بھی نہیں اور مانتے بھی نہیں]۔ مندرجہ ذیل تحریر قائداعظم کے سیکرٹری  مطلوب الحسن سید کی ہے۔ 

میسور کے نندی پہاڑ پر قائداعظم نے کچھ عرصے قیام کیا۔ وہاں ایک خط موصول ہوا۔ جو آگرے سے آیا تھا۔ خط اُردو میں تھا۔ اور لکھنے والے نے رُول دار کاغذ استعمال کیا تھا جو غالباً کسی رجسٹر سے پھاڑا گیا تھا۔ یہ خط ایک تانگے والے نے لکھا تھا۔ خط گالیوں سے شروع ہوا تھا لیکن بعد میں لکھنے والے نے لکھا تھا کہ ہماری گالیوں کا بُرا نہ مانیں کیونکہ ہم تانگے والوں کی زبان ہی ایسی ہوتی ہے۔ دراصل یہ ہمارے پیار کی زبان ہے۔ 

یہ خط دو قسطوں میں موصول ہوا تھا۔ پہلی قسط میں اس نے لکھا تھا کہ میرے پاس ایک سواری آ گئی ہے۔ اس لیے باقی خط پھر لکھوں گا۔ 

چنانچہ دوسری قسط دوسرے روز مل گئی۔ اس خط کا لبِ لباب یہ تھا کہ راقم الحروف کا سب سے بڑا شکوہ قائداعظم سے یہ تھا کہ قائد نے مسلمانوں کی قیادت کی دوسری سیڑھی کا تعین نہیں کیا۔ اُس نے لکھا تھا کہ قائداعظم تمہاری وفات کے بعد مسلمانوں میں ایک خلا پیدا ہو جائے گا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو سیاست کے مخمصے میں پھنس جانے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے اپنے نیچے کی قیادت کو ابھی سے منظم کرنا شروع کر دو۔ 

قائداعظم نے حسبِ دستور مجھے کہا کہ میں یہ خط پڑھ کر سناوں لیکن میں نے خط کو آغاز سے پڑھ کر سنانے سے انکار کر دیا۔ اور عرض کیا کہ اس میں گالیاں لکھی ہوئی ہیں۔ 

انہوں نے فرمایا کوئی بات نہیں اس کو پڑھو۔ جب میں نے نہ پڑھنے پر اِصرار کیا تو وہ بہت خفا ہوئے اور مجھے جھڑک کر کہا کہ تم کو پڑھنا پڑے گا۔ 

قائداعظم کے اس رویہ سے مجھے سخت صدمہ ہوا اور میں روہانسا ہو گیا۔ لیکن انہوں نے دوبارہ کہا کہ تمہیں خط پڑھنا ہو گا۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ جس ماحول میں میری نشو و نما ہوئی ہے، اس نے میری زبان پر ایسی پابندی لگا دی ہے کہ ایسے الفاظ ادا کرنے کے لیے میری زبان کا پلٹنا مشکل ہے۔ 

اس پر وہ ذرا نرم ہوئے اور کہا کہ اچھا چھوڑ چھوڑ کر پڑھو۔ اس طرح وہ خط میں نے انہیں سنایا۔ لیکن جب میں اُس حصے پر پہنچا جہاں اُس نے قیادت کی دوسری سیڑھی کا ذکر کیا تھا تو اُنہوں نے کہا کہ دیکھو یہ خط معمولی نہیں ہے۔ اس تانگے والے نے بڑی دُوراندیشی کا ثبوت دیا ہے۔ اس خط کا اُسے جواب ضرور جانا چاہیے۔ 

لیکن تانگے والے نے اپنا خط کا پتا نہیں لکھا تھا۔ اس کا انہیں بیحد رنج ہوا۔ پھر مجھ سے کہا اس خط کا انگریزی میں ترجمہ کر کے مجھے دو۔

دو تین روز بعد انہوں نے اس خط کو پھر نکالا اور مجھ سے کہا کہ سیاست میں ٹھنڈے مزاج کی ضرورت ہے۔ سیاست میں رہ کر نہ تعریف کا اثر لینا چاہیے اور نہ گالیوں سے رنجیدہ ہونا چاہیے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے اپنا ضمیر صاف رکھو۔ انہوں نے کہا مجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ مسلمانوں کی آیندہ قیادت کے لیے افراد کو منتخب کروں۔ مجھے یقین ہے کہ مسلمان اپنی قیادت کے لیے خود ہی کسی کو منتخب کر لیں گے۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ مسلمانوں کی سیاست میری ملکیت تو نہیں ہے کہ میں اپنا جانشین مقرر کروں۔

ماخذ: قائداعظم میری نظر میں۔ مرتب زکریا ساجد، ناشر قائداعظم اکادمی کراچی۔ ص145سے 148  

Monday, 5 December 2011

امام حسین

علامہ اقبال نے 'رموزِ بیخودی' میں بتایا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت  کا مقاصد دنیا میں اُخوت، مساوات اور آزادی کا فروغ تھا۔ ان تینوں قدروں کے بارے میں اسلامی تصور کو علامہ نے ایک ایک تاریخی حکایت سے واضح کیا ہے۔ آزادی کے تصور کی وضاحت کے لیے کربلا کا واقعہ بیان کیا ہے۔ اس باب کا ترجمہ درجِ ذیل ہے۔ 

اِسلامی آزادی اور حادثہ ء کربلا کے راز کے بارے میں

جس کسی نے بھی ھُوَالمَوجُود کے ساتھ پیمان باندھا اُس کی گردن ہر معبود کے طوق سے آزاد ہو گئی۔
مومن عشق سے ہے اور عشق مومن سے ہے۔ ہمارا ناممکن عشق کے لیے ممکن ہے۔ 
عقل سفاک ہے اور عشق اُس سے بھی زیادہ سفاک ہے۔ زیادہ پاک، زیادہ چالاک اور زیادہ بیباک ہے۔
عقل اسباب اور وجوہات کے چکر میں پڑی ہوئی ہے ۔ عشق میدانِ عمل کا کھلاڑی ہے۔
عشق اپنے شکار کو زورِ بازو سے پکڑ لیتا ہے ۔ عقل مکار ہے اور جال پھینکتی ہے۔ 
عقل کا کام نااُمیدی اور شک سے نکلتا ہے۔ عشق کے لیے عزم اور یقین ناگزیر ہیں۔ 
وہ ویران کرنے کے لیے تعمیر کرتی ہے۔ یہ تعمیر کرنے کے لیے ویران کرتا ہے۔ 
عقل دنیا میں ہوا کی طرح عام ہے۔ عشق کمیاب اور مہنگا ہے۔
عقل کیسے اور کتنے کی بنیاد پر قائم ہے۔ عشق کے جسم پر کیسے اور کتنے کا لباس نہیں ٹھہرتا۔ 
عقل کہتی ہے اپنے آپ کو پیش کرو۔ عشق کہتا ہے اپنا امتحان لو۔
عقل اکتسابی ہے اس لیے غیر سے آشنا ہے۔ عشق خدا کی دین ہے اور اپنے آپ سے کام رکھتا ہے۔ 
 عقل کہتی ہے خوش رہو، آباد رہو۔ عشق کہتا کہ بندگی اختیار کرو تاکہ آزاد ہو جاو۔ 
عشق کی روح کا آرام آزادی میں ہے۔ آزادی اُس کی اونٹنی کی ساربان ہے۔

کیا تم نے سُنا کہ جنگ کے وقت عشق نے ہوس پیشہ عقل کے ساتھ کیا کیا؟
وہ عاشقوں کے امام، جنابِ بتولؓ کے لختِ جگر، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں آزادی کا درخت-
اللہ کی شان دیکھو کہ باپ بسم اللہ کی ب اور بیٹا ذبحِ عظیم والی آیت کی تفسیر ہے
سب سے بہتر ملت کے اُس شہزادے کے لیے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاندھا سواری کا نعم البدل بن گیا۔ 
غیرتمند عشق اُس کے لہو سے سرخ ہے۔ اُس کے مضمون سے اِس مصرع کی شوخی ہے۔
وہ عالی مرتبت ہستی اُمت میں ایسے ہے جیسے اُم الکتاب میں قل ھو اللہ احد!
موسیٰ اور فرعون، شبیر اور یزید دو قوتیں ہیں جو زندگی سے پیدا ہوتی ہیں۔ 
حق شبیر کی قوت سے زندہ ہے۔ باطل کا انجام ناکامی کی موت کا داغ ہے۔ 
جب خلافت نے قرآن سے رشتہ توڑ لیا تو آزادی کے منہ میں زہر ڈل گیا۔ 
تب خیرُ الاُمم کا وہ جلوہ آرا کعبہ کے بادل کی طرح اپنے دامن میں مینہ سمیٹ کر اُٹھا۔
کربلا کی زمین پر برسا اور گزر گیا۔ ویرانوں میں لالے کے پھول اُگائے اور گزر گیا۔ 
قیامت تک کے لیے استبداد کا خاتمہ کر گیا۔ اُس کے لہو کی موج نے باغ کھِلا دیا۔
حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹ گیا اور یوں لا الٰہ کی بنیاد مضبوط کر دی۔ 
اگر آپؓ کا مدّعا سلطنت ہوتی تو آپ کبھی ایسے سازو سامان کے ساتھ سفر نہ کرتے،
آپؓ کے دشمن صحرا کی ریت کے ذروں کی طرح لاتعداد اور آپ کے ساتھی ”یزداں“ کے لفظ کے ہم عدد یعنی صرف بہتّر۔ 
آپؓ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا راز تھے یعنی آپ اُس اجمال کی تفصیل تھے۔
آپؓ کا عزم کوہساروں کی طرح ڈٹا ہوا، ثابت قدم، چٹیل اور کامیاب تھا۔ 
تلوار صرف دین کی عزت کے لیے ہے ۔ اُس کا مقصد قانون کی حفاظت کے سوا کچھ اور نہیں۔
مسلمان اللہ کے سوا کسی کا غلام نہیں ہے۔ فرعون کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ 
آپؓ کے لہو نے اِس راز کی تفسیر بیان کر دی۔ سوئی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا۔ 
جب آپؓ نے ”لا“ کی تلوار میان سے نکالی تو باطل کے سرپرستوں کی رگوں سے لہو کھینچ لیا۔
اِلا" کا نقش صحرا پر لکھ دیا۔ وہ ہماری آزادی کے عنوان کی سطر بن گئی۔" 
 ہم نے قرآن کے چُھپے ہوئے معنی حسینؓ سے سیکھے ہیں۔ آپؓ کی آگ سے شعلے اکٹھے کیے ہیں۔ 
شام کی شوکت اور بغداد کی شان رخصت ہو گئی۔ غرناطہ کی سطوت بھی یاد سے محو ہو گئی۔ 
تب بھی ہمارے ساز کے تار آج تک آپؓہی کے مضراب سے ہل رہے ہیں۔ آپ ہی کی تکبیر سے آج تک ہمارے ایمان تازہ ہیں۔ 
اے صبا! اے دُور پڑے ہوو ں کی قاصد! ہمارے آنسو لے جا کر اُن کی خاکِ پاک پر 
برسا دے۔


رموز بیخودی از علامہ اقبال۔ ترجمہ خرم علی شفیق 

Wednesday, 30 November 2011

حسین حقانی کا استعفیٰ

 امریکہ میں ہمارے سفیر نے جن حالات میں استعفیٰ دیا اُس پر مجھے شبن یاد آیا۔ سوچا کہ بلاگ پر لکھوں مگر باز رہا کہ بدشگونی نہ ہو جائے۔ وہ خودبخود ہو گئی۔ اس لیے اب تفصیل حاضر ہے۔

۔شبن فلم ارمان میں ایک کردار ہے۔ گھر میں ملازم ہے۔ اُس کا تکیہ کلام ہے، "جھوٹ بولت ہیں تو بیوقوف کہلاوَت ہیں۔ سچ بولت ہیں تو مار کھاوَت ہیں۔ بس ہو گیا فیصلہ: ہم ناہی کریں گے نوکری۔" [جھوٹ بولتے ہیں تو بیوقوف کہلاتے ہیں۔ سچ بولتے ہیں تو مار کھاتے ہیں۔ بس ہو گیا فیصلہ: ہم نہیں کریں گے نوکری]۔

فلم کے ساتویں حصے میں یوں ہوتا ہے کہ میاں شبن جس گھر میں کام کرتے ہیں وہاں ایک غلط قسم کا خط پہنچاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔ 

"کم بخت نمک حرام تو یہاں قاصد کا کام کب سے کر رہا ہے؟"

"ہم کو مارَت کاہے ہو سرکار۔۔۔"

سفیر صاحب کے استعفے سے پہلے جو واقعات پیش آئے اُن کے بارے میں پڑھتے ہوئے مجھے یہ مکالمہ بیساختہ یاد آیا۔ رہا بدشگونی کا معاملہ تو فلم میں اِس منظر کے کچھ ہی دیر بعد وہ شخص جس نے خط بھیجا تھا، گھر میں گُھس کر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ فلم کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن یہاں معاملہ دو ممالک کا تھا لہِٰذا ایسی منحوس بات لکھنا مجھے کچھ اچھا نہ لگا۔ 

دو چار دنوں میں وہ منحوس بات ہو ہی گئی۔ امریکی افواج نے پاکستانی سپاہیوں پر حملہ بھی کر دیا۔

خدا کرے کہ باقی سب خیریت رہے۔ بہرحال اب آپ فلم کے دونوں مناظر کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔ پہلے وہ خط پکڑے جانا والا واقعہ ملاحظہ فرمایے۔ اگر آپ تفریح کے مُوڈ میں ہوں تو شبن کو سفیر، ناصر یعنی وحید مراد کو پاکستانی عوام اور خاتونِ خانہ کو اپنی حکومت بھی سمجھ سکتے ہیں۔  


۔اب ہیرو کے گھر میں ولن کے حملہ آور ہونے کا منظر دیکھیے۔



پچھلی چند پوسٹس کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گئی تھیں لہٰذا آج کچھ اور سہی۔ پھر بھی آپ مجھ سے علامہ اقبال کا کوئی شعر سننے ہی پر مصر ہوں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ 
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی