Pages

Showing posts with label Iqbal. Show all posts
Showing posts with label Iqbal. Show all posts

Thursday, 29 December 2011

رانا پیلس

رانا پیلس
ابن صفی
ترتیب، تدوین اور حواشی: خرم علی شفیق
ناشر: فضلی سنز

دل سے دماغ و حلقہ ء عرفاں سے دار تک
ہم خود کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے کہاں کہاں
اَسرار ناروی

بہت ہی بھیانک قسم کے ذہنی ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہوں۔ ورنہ میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں۔ لیکن 1947ءمیں جو کچھ ہوا اُس نے میری پوری شخصیت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا
ابن صفی


پہلی بات
مرتب کی طرف سے کچھ گزارشات

آئیے کچھ دیر کے لیے فرض کر لیں کہ

پاکستان کی ہر گلی میں لائبریری قائم ہے۔ لوگوں میں مطالعے کا شوق اِتنا بڑھ گیا ہے کہ کرایہ دے کر بھی لائبریری سے کتابیں لینے پر تیار ہیں۔ بچے، بڑے، بوڑھے اور گھر کی عورتیں بھی اِس شوق میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ ہر محلے میں بُک اسٹال کُھل گئے ہیں بلکہ جنرل اسٹور، بیکری اور کولڈ ڈرنک کی دکانوں پر بھی کچھ نہ کچھ کتابیں ضرور رکھی جاتی ہیں کیونکہ سب سے زیادہ بِکنے والی چیز ہی کتاب ہے۔
یہ شوق صرف اُن لوگوں تک محدود نہیں ہے جو پڑھ سکتے ہیں۔ جو پڑھنا نہیں جانتے وہ بھی کتابیں خریدتے ہیں۔ کسی پڑھے لکھے کے پاس لیجاتے ہیں اور فرمایش کرتے ہیں کہ وہ پڑھ کر سنا دے۔ چنانچہ آپ کسی رکشے میں بیٹھیں تو رکشہ والے کی گدی کے پیچھے اوزاروں کے علاوہ کوئی کتاب ضرور ہو گی۔ بس میں جائیے تو ڈرائیور نے ڈیش بورڈ میں ایک آدھ کتاب رکھ چھوڑی ہو گی۔ ورکشاپوں میں گریس لگی ہوئی کتابیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جہاں جسے موقع ملتا ہے وہ شروع ہو جاتا ہے۔
پڑھنے والے اِتنے ہیں تو لکھنے والے کیوں کم ہوں۔ شاید ہر گلی میں دو تین ایسے لوگ مل جائیں گے جو کتاب لکھے بیٹھے ہیں۔ پبلشر کی تلاش میں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی پبلشرز نمودار ہو گئے ہیں، بڑے شہروں کا تو پوچھنا ہی کیا۔ کتاب ایک منفعت بخش کاروبار بن گئی ہے لیکن اِس پر چند بڑے ناموں کی اِجارہ داری نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص کتاب لکھ کر، چھاپ کر، بیچ کر یا کرایہ پر دے کر اَپنے اور گھر والوں کے لیے روزگار فراہم کر سکتا ہے۔
کیا آپ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں ایسا پاکستان ممکن ہے؟
ہو سکتا ہے کہ آپ پہلے سوال کا جواب اثبات میں اور دوسرے کا نفی میں دیں۔ (اکثر لوگوں نے مجھ سے یہی کہا ہے کہ وہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں مگر اُن کے خیال میں یہ ممکن نہیں ہے)۔

لیکن میں نے جو نقشہ کھینچا گیا وہ ہمارا مستقبل نہیں بلکہ ماضی ہے۔ پاکستان بننے کے دس گیارہ برس بعد ہی یہ ماحول قائم ہو گیا تھا اور تقریباً ۶۸۹۱ءتک رہا۔
جو لوگ اُس وقت موجود تھے اُنہیں یاد ہو گا (اور یہ اُن کی مہربانی ہے کہ اِس کی یادیں بھی نئی نسل تک منتقل نہیں کی ہیں)۔ بدنصیبی ہے کہ جس قوم کا آغاز اِس شان کے ساتھ ہوا آج اُس کی یہ حالت ہے کہ کتابیں چھپنے، پڑھنے، بیچنے اور خریدنے کا کام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کتابوں کی دکانیں صرف چند بازاروں تک محدود ہیں۔ پڑھنے والے اب بھی کتابوں پر بڑی رقومات صرف کرتے ہیں لیکن یہ شوق صرف چند لوگوں تک رہ گیا ہے۔ والدین، اساتذہ اور دردمند لوگ عموماً یہی رونا روتے دکھائی دیتے ہیں کہ معاشرے میں کتب بینی کی عادت ختم ہو گئی ہے۔
چنانچہ اَصل سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اِس ماحول کو ختم کرنے کے ذمہ دار دانشور، اساتذہ اور والدین ہیں۔ اُن کے سوا کسی پر بھی اِس کی ذمہ داری عاید نہیں کی جا سکتی- نہ غریب عوام، نہ کسی فوجی ڈکٹیٹر نہ کسی اور قسم کی حکومت پر۔ جس زمانے کا یہ تذکرہ ہے اُس زمانے میں والدین اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے پر ڈانٹتے ہی نہیں تھے بلکہ اِس بات پر پٹائی بھی کر دیتے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ بچوں کو اُردو میں صرف درسی کتابیں پڑھنی چاہئیں ورنہ انگریزی ناول پڑھیں تاکہ انگریزی اچھی ہو جائے۔ چنانچہ والدین کے خیال میں کتابیں پڑھنے کا شوق چرس، افیون اور گانجے کی طرح تھا۔ بچے اپنے والدین سے چھُپا کر کتابیں پڑھتے تھے۔ پکڑے جاتے تو مشکل درپیش آتی۔

اسکولوں میں اساتذہ کا بھی یہی خیال تھا۔ کسی بھی وقت بستوں کی تلاشی لے لی جاتی تھی۔ جس طالب علم کے بستے سے درسی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب نکلتی اُسے سزا ملتی۔ کتاب عموماً ضبط کر کے اسکول کی لائبریری میں داخل کر دی جاتی تھی مگر کبھی کبھی اساتذہ بچوں کو عبرت دلانے کے لیے کتاب پھاڑ کر پُرزے پُرزے بھی کر دیتے تھے (یہ منظر میں نے اپنے اسکول کے زمانے میں خود کئی بار دیکھا)۔ چنانچہ بچے کئی دفعہ کتابیں قمیص کے نیچے یا جرابوں میں اُڑس کر چھُپا لیتے۔ اسکول میں بدمعاش طالب علم کا تصور یہی تھا کہ اُس کے پاس سے 
کتابیں برآمد ہوں گی

 یہ حقیقت جُھٹلائی نہیں جا سکتی کہ ہمارے اسکولوں نے مسلسل تیس برس تک یہی 
روش اپنائے رکھی۔ کالجوں، یونیورسٹیوں، اکیڈمیوں اور ادبی انجمنوں کی رائے میں بھی پوری قوم جو کتابیں پڑھ رہی تھی وہ غلط کر رہی تھی۔ ہمارے پروفیسروں، دانشوروں اور نقادوں کے نزدیک ادب اور ثقافت کے پیمانے کچھ اور تھے (جن کا تذکرہ کرنے کی شاید یہاں کوئی ضرورت نہیں)۔ انہی کی سوچ سے وہ جذباتی رویے فروغ پا رہے تھے جن کے تحت اسکولوں اور گھروں میں کتابیں پڑھنا جرم قرار دیا گیا تھا۔

چنانچہ یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ وہ ماحول کیوں ختم ہو گیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اُسے واپس لانا بیحد ضروری ہے ورنہ ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ اِس کے لیے سب سے پہلے ہمیں ایمانداری کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کون صحیح تھا: قوم یا دانشور؟

قوم کے منتخب کیے ہوئے ادب کے سب سے بڑے نمایندہ اَسرار احمد ناوری تھے جنہیں عموماً قلمی نام ابن صفی سے پہچانا جاتا ہے۔ انہی نے چند دوستوں کے ساتھ اِس تہذیبی انقلاب کا آغاز کیا تھا۔ تعلیمی اِداروں اور دانشوروں کی طرف سے کتابوں کے خلاف جو طوفان اُٹھایا گیا، یہ اُس کے خلاف چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ جب تک وہ زندہ رہے، پاکستان میں کتابیں پڑھنے کا رجحان کم نہ ہوا۔ اِسی دوران ریڈیو نے مقبولیت حاصل کی، فلموں کا سنہرا دَور شروع ہوا، ٹیلی وژن آیا اور بلیک اینڈ وہائٹ سے رنگین ہو گیا۔ لوگوں نے اِن تمام دلچسپیوں میں حصہ لیا مگر کتابوں سے منہ نہ موڑا۔ 1980ءمیں ابن صفی فوت ہوئے۔ چند ہی برس بعد وہ لائبریریاں اور بُک اسٹال اچانک غائب ہوگئے جو گلی گلی کُھلے ہوئے تھے۔

سائیکومینشن مِیں مَیں نے ابن صفی کے جاسوسی ناولوں میں سے ایسی تحریروں کا انتخاب پیش کیا تھا جن میں جاسوسی بالکل نہیں تھی بلکہ معاشرے کے بارے میں عمیق مشاہدات یا پھر طنز و مزاح تھا۔ ان کی روشنی میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ عوام کا فیصلہ درست تھا اور ہمارے دانشور غلط تھے۔ یقیناً یہ ادب اُس پذیرائی کے لائق تھا جو عوام نے کی۔

اب دانشوروں کے اعتراض کا دُوسرا پہلو رہ جاتا ہے۔ ابن صفی کے ناولوں میں جاسوسی کا عنصر غالب ہوتا تھا اور بظاہر ہمارے دانشوروں کو اِسی پر اعتراض تھا۔ رانا پیلس میں ایسے ہی حصوں کا انتخاب پیش کیا جا رہا ہے تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ جاسوسی عنصر کی نوعیت کیا تھی۔

کتاب کے تین حصے ہیں

حیرت نامہ میں تیرہ ناولوں کے ایسے اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں جو قارئین کو تحیّر کی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
کردارنامہ میں چودہ ایسے اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں جن میں ابن صفی کے ناولوں کے مستقل کردار متعارف ہوتے ہیں (ظاہر ہے کہ ان میں سے اکثر کردار سائیکومینشن اور رانا پیلس کے دوسرے حصوں میں بھی آئے ہیں مگر یہاں اِن کرداروں کا مفصل تعارف ہو رہا ہے)۔
سیاحت نامہ میں تیرہ ایسے اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں جن میں ابن صفی کے کردار کسی بیرونی ملک میں موجود ہیں۔

رانا پیلس میں تحقیقِ متن کے لیے جناب راشد اَشرف کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو ابنِ صفی کے محقق ہیں۔ جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی انہوں نے اولین ایڈیشنوں کے ساتھ متن کا موازنہ کر کے تصحیح کی۔ ابنِ صفی ویب سائٹ کے مہتمم جناب حنیف احمد نے گراں قدر مشورے دیے اور بروقت بعض معلومات فراہم کیں۔
ابن صفی کے قانونی ورثا کا بھی شکرگذار ہوں جنہوں نے اِس انتخاب کو شائع کرنے کی اجازت دی۔ ابن صفی کے صاحبزادے ڈاکٹر احمد صفی اِس پوری مہم میں میرے ساتھ برابر کے شریک رہے ہیں۔

ایک اہم اطلاع ہے کہ ابن صفی کے بارے میں انٹرنیٹ پر مزید جستجو کرنی ہو تو
www.ibnesafi.info ابن صفی کی خاص ویب سائٹ ہے جس کے خالق اور مہتمم جناب محمد حنیف ہیں۔

http://www.wadi-e-urdu.com محقق راشد اشرف کی وَیب سائٹ ہے۔

www.facebook.com/ibnesafi فیس بُک پر ابنِ صفی کا صفحہ ہے۔

اِن تینوں کاوشوں کو ابنِ صفی کے قانونی ورثا کی سرپرستی حاصل ہے۔
خرم علی شفیق
khurramsdesk@gmail.com

Tuesday, 6 December 2011

واسوخت اور شکوہ

 شیخ عبدالقادر جنہوں نے بانگِ درا کا دیباچہ لکھا، انہوں نے اپنے ایک مضمون میں علامہ اقبال کی نظم 'شکوہ' اور میر تقی میر کی واسوخت کی باہمی مماثلت پر زور دیا ہے۔ میں نے اپنی کتاب اقبال: تشکیلی دَور میں نظم 'شکوہ' کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس بات کو ذہن میں رکھا۔ 

واسوخت نظم کی وہ قسم تھی جس میں محبوب سے شکایت کی جاتی تھی۔ میر تقی میر کی کلیات میں چار واسوختیں ہیں۔ ان چاروں کا مرکزی خیال یہی ہے کہ میر تقی میر اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ ہم نے ہی تمہاری نازبرداری کر کے تمہیں اتنا معتبر کر دیا کہ ہر شخص تمہاری طرف مائل ہونے لگا۔ اب تم غیروں کو ترجیح دینے لگے ہو اور ہم سے بے رُخی اختیار کی ہے تو ہم بھی کسی اور پر مہربان ہو کر اُسے تم سے زیادہ حسین و جمیل بنا دیں گے۔ لیکن اگر اب بھی مہربان ہو جاو تو ہم آج بھی وہی تمہارے دلدادہ ہیں۔

ظاہر ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ محبوب فارسی زبان بھی ہو سکتی ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف خود فارسی زبان و ادب میں دلچسپی لی تھی بلکہ ایران کے ٹھکرائے ہوئے شاعروں عرفی، ظہوری وغیرہ کو سرآنکھوں ہر بٹھایا تھا جس کے بارے میں علامہ اقبال نے بعد میں کہا

ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

میر تقی میر دہلی کے اُن اولین شعرا میں سے ہیں جنہوں نے فارسی میں شعر کہنا چھوڑ کر اُردو شاعری کو معتبر بنایا۔ اس لحاظ سے میر کی واسوخت کا یہ مفہوم لیا جا سکتا ہے۔ 

اِس کے علاوہ دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محبوب وہ بین الاقوامی مسلمان برادری ہے جس کے ہاتھوں برصغیر کے مسلمانوں نے زِک اٹھائی تھی۔

میر کا مطلب جو بھی ہو لیکن محبوب سے جس طرح انہوں نے شکایت کی بالکل وہی انداز علامہ اقبال نے اپنی نظم 'شکوہ' میں اللہ تعالی سے شکایت کرتے ہوئے اختیار کیا۔

میر کی واسخت کے کئی مصرعے بلکہ پورے بند ایسے ہیں جن کی بازگشت 'شکوہ'  میں صاف سنائی دیتی ہے، مثلاً میر کہتے ہیں

میں بھی ناچار ہوں اب منہ زباں رہتی نہیں

علامہ اقبال کی شکوہ کا پہلا بند ذہن میں لایے جس میں وہ کہتے ہیں

ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو مجبور ہیں ہم

اسی طرح 'شکوہ' کا وہ مشہور بند ذہن میں رکھیے کہ

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر
خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر
تجکو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟
قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

اب میر کی واسخت کا بند ملاحظہ ہو

پیشتر ہم سے کوئی تیرا طلبگار نہ تھا
ایک بھی نرگسِ بیمار کا بیمار نہ تھا
جنس اچھی تھی تری، لیک خریدار نہ تھا
ہم سِوا کوئی ترا رونقِ بازار نہ تھا
کتنے سودائی جو تھے دل نہ لگا سکتے تھے
آنکھیں یوں موند کے وے جی نہ جلا سکتے تھے


اسی بند پر غور کیجیے تو شکوہ کے بعض اور مصرعے بھی ذہن میں آ جائیں گے۔ کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی۔ ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ


شیخ عبدالقادر نے اپنے مضمون میں کئی مماثلتیں بیان کی ہیں۔ میں اِن دنوں انگلستان میں ہوں اِس لیے وہ مضمون پیش نہیں کر سکتا۔ پھر کبھی سہی۔

Monday, 5 December 2011

امام حسین

علامہ اقبال نے 'رموزِ بیخودی' میں بتایا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت  کا مقاصد دنیا میں اُخوت، مساوات اور آزادی کا فروغ تھا۔ ان تینوں قدروں کے بارے میں اسلامی تصور کو علامہ نے ایک ایک تاریخی حکایت سے واضح کیا ہے۔ آزادی کے تصور کی وضاحت کے لیے کربلا کا واقعہ بیان کیا ہے۔ اس باب کا ترجمہ درجِ ذیل ہے۔ 

اِسلامی آزادی اور حادثہ ء کربلا کے راز کے بارے میں

جس کسی نے بھی ھُوَالمَوجُود کے ساتھ پیمان باندھا اُس کی گردن ہر معبود کے طوق سے آزاد ہو گئی۔
مومن عشق سے ہے اور عشق مومن سے ہے۔ ہمارا ناممکن عشق کے لیے ممکن ہے۔ 
عقل سفاک ہے اور عشق اُس سے بھی زیادہ سفاک ہے۔ زیادہ پاک، زیادہ چالاک اور زیادہ بیباک ہے۔
عقل اسباب اور وجوہات کے چکر میں پڑی ہوئی ہے ۔ عشق میدانِ عمل کا کھلاڑی ہے۔
عشق اپنے شکار کو زورِ بازو سے پکڑ لیتا ہے ۔ عقل مکار ہے اور جال پھینکتی ہے۔ 
عقل کا کام نااُمیدی اور شک سے نکلتا ہے۔ عشق کے لیے عزم اور یقین ناگزیر ہیں۔ 
وہ ویران کرنے کے لیے تعمیر کرتی ہے۔ یہ تعمیر کرنے کے لیے ویران کرتا ہے۔ 
عقل دنیا میں ہوا کی طرح عام ہے۔ عشق کمیاب اور مہنگا ہے۔
عقل کیسے اور کتنے کی بنیاد پر قائم ہے۔ عشق کے جسم پر کیسے اور کتنے کا لباس نہیں ٹھہرتا۔ 
عقل کہتی ہے اپنے آپ کو پیش کرو۔ عشق کہتا ہے اپنا امتحان لو۔
عقل اکتسابی ہے اس لیے غیر سے آشنا ہے۔ عشق خدا کی دین ہے اور اپنے آپ سے کام رکھتا ہے۔ 
 عقل کہتی ہے خوش رہو، آباد رہو۔ عشق کہتا کہ بندگی اختیار کرو تاکہ آزاد ہو جاو۔ 
عشق کی روح کا آرام آزادی میں ہے۔ آزادی اُس کی اونٹنی کی ساربان ہے۔

کیا تم نے سُنا کہ جنگ کے وقت عشق نے ہوس پیشہ عقل کے ساتھ کیا کیا؟
وہ عاشقوں کے امام، جنابِ بتولؓ کے لختِ جگر، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں آزادی کا درخت-
اللہ کی شان دیکھو کہ باپ بسم اللہ کی ب اور بیٹا ذبحِ عظیم والی آیت کی تفسیر ہے
سب سے بہتر ملت کے اُس شہزادے کے لیے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاندھا سواری کا نعم البدل بن گیا۔ 
غیرتمند عشق اُس کے لہو سے سرخ ہے۔ اُس کے مضمون سے اِس مصرع کی شوخی ہے۔
وہ عالی مرتبت ہستی اُمت میں ایسے ہے جیسے اُم الکتاب میں قل ھو اللہ احد!
موسیٰ اور فرعون، شبیر اور یزید دو قوتیں ہیں جو زندگی سے پیدا ہوتی ہیں۔ 
حق شبیر کی قوت سے زندہ ہے۔ باطل کا انجام ناکامی کی موت کا داغ ہے۔ 
جب خلافت نے قرآن سے رشتہ توڑ لیا تو آزادی کے منہ میں زہر ڈل گیا۔ 
تب خیرُ الاُمم کا وہ جلوہ آرا کعبہ کے بادل کی طرح اپنے دامن میں مینہ سمیٹ کر اُٹھا۔
کربلا کی زمین پر برسا اور گزر گیا۔ ویرانوں میں لالے کے پھول اُگائے اور گزر گیا۔ 
قیامت تک کے لیے استبداد کا خاتمہ کر گیا۔ اُس کے لہو کی موج نے باغ کھِلا دیا۔
حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹ گیا اور یوں لا الٰہ کی بنیاد مضبوط کر دی۔ 
اگر آپؓ کا مدّعا سلطنت ہوتی تو آپ کبھی ایسے سازو سامان کے ساتھ سفر نہ کرتے،
آپؓ کے دشمن صحرا کی ریت کے ذروں کی طرح لاتعداد اور آپ کے ساتھی ”یزداں“ کے لفظ کے ہم عدد یعنی صرف بہتّر۔ 
آپؓ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا راز تھے یعنی آپ اُس اجمال کی تفصیل تھے۔
آپؓ کا عزم کوہساروں کی طرح ڈٹا ہوا، ثابت قدم، چٹیل اور کامیاب تھا۔ 
تلوار صرف دین کی عزت کے لیے ہے ۔ اُس کا مقصد قانون کی حفاظت کے سوا کچھ اور نہیں۔
مسلمان اللہ کے سوا کسی کا غلام نہیں ہے۔ فرعون کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ 
آپؓ کے لہو نے اِس راز کی تفسیر بیان کر دی۔ سوئی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا۔ 
جب آپؓ نے ”لا“ کی تلوار میان سے نکالی تو باطل کے سرپرستوں کی رگوں سے لہو کھینچ لیا۔
اِلا" کا نقش صحرا پر لکھ دیا۔ وہ ہماری آزادی کے عنوان کی سطر بن گئی۔" 
 ہم نے قرآن کے چُھپے ہوئے معنی حسینؓ سے سیکھے ہیں۔ آپؓ کی آگ سے شعلے اکٹھے کیے ہیں۔ 
شام کی شوکت اور بغداد کی شان رخصت ہو گئی۔ غرناطہ کی سطوت بھی یاد سے محو ہو گئی۔ 
تب بھی ہمارے ساز کے تار آج تک آپؓہی کے مضراب سے ہل رہے ہیں۔ آپ ہی کی تکبیر سے آج تک ہمارے ایمان تازہ ہیں۔ 
اے صبا! اے دُور پڑے ہوو ں کی قاصد! ہمارے آنسو لے جا کر اُن کی خاکِ پاک پر 
برسا دے۔


رموز بیخودی از علامہ اقبال۔ ترجمہ خرم علی شفیق 

Saturday, 3 December 2011

میر کے دین و مذہب کو

میر تقی میر کا غم انفرادی اور ذاتی تھا
یا پورے مسلمان معاشرے کے غم
انہوں نے اکٹھے کیے تھے؟
ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
میر تقی میر اور مرزا غالب کے یہاں عشق و عاشقی اور رونے دھونے کے سِوا کیا رکھا ہے؟ آج یی غلط فہمی دُور کیجیے۔ 

جب ایک نئی نظریاتی مملکت وجود میں آتی ہے تو اُسے اپنے تمام علوم کو اپنے نظریے کی روشنی میں از سرِ نَو دیکھنا پڑتا ہے۔ کمیونسٹ ملکوں نے تو آسمانی صحیفوں کی تفسیر بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے دائرے میں کر کے رکھ دی تھی۔ 


بھارت نے بھی میر اور غالب وغیرہ کو اُس ہندی نیشنلزم کی روشنی میں دیکھا ہے جو 1885میں کانگریس کے قیام سے پہلے پورے ہندوستان میں کہیں موجود نہ تھا۔ مگر افسوس کہ پاکستانی دانشور اپنے فرض سے غافل رہے۔ 


پاکستان، قوم سے محبت کے نظریے پر قائم ہوا چنانچہ پاکستان کی ضرورت ہے کہ تمام بڑے شاعروں کی شاعری کو اِس معیار پر جانچا جائے کہ اگر اُن کے اشعار میں محبوب کی جگہ قوم کو رَکھ دیا جائے تو کوئی خاص معانی نکلتے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں نکلتے تو وہ شاعر ہمارے کام کا نہیں ہے۔ اگر نکلتے ہیں تو کام کا ہے۔

میر تقی میر اٹھارہویں صدی کی دہلی میں رہتے تھے۔ صدیوں سے یہاں فارسی بولنے کا رواج تھا۔ ہمارے دل و دماغ میں ایران ہر طرح کے حسن و نزاکت کی آماجگاہ تھا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ ایرانی شہنشاہ نادر شاہ کے سپاہی دہلی میں قتل عام کرنے لگے۔ شرفا کی عزتیں برباد ہو گئیں۔ بازاروں میں لاشوں کے انبار لگ گئے۔ یہی سب کچھ بعد میں نادر شاہ کے جانشین احمد شاہ ابدالی کے سپاہیوں نے بھی کیا [نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی دونوں کو اُن کے بعض اچھے کارناموں کی وجہ سے علامہ اقبال نے جنت الفردوس میں دکھایا ہے مگر وہ ایک علیحدہ بات ہے جس پر کبھی اور عرض کروں گا]۔ 

میر تقی میر کے دل و دماغ میں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوا: میں ایک ہندی مسلمان ہوں تو میرا باقی اُمتِ مسلمہ سے کیا رشتہ ہے؟

میر نے بیہودہ اور فضول اشعار بھی لکھے ہوں مگر جب وہ اپنے وجود کی گہرائی میں ڈوبتے ہیں تو اُن کا وجود ہندوستان [اور آج کے پاکستان] کے مسلمانوں کا نمایندہ بن جاتا ہے۔ محبوب وہ بین الاقوامی مسلمان برادری جو کل تک ہمیں سر 
آنکھوں پر بٹھاتی تھی مگر آج گھاس نہیں ڈالتی، ہم پر ظلم کرتی ہے۔

دکھائی دیے یوں کہ بیخود کیا
ہمیں آپ سے بھی جُدا کر چلے

یہاں "آپ"سے مراد "اپنے آپ"ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ میر کہیں بیٹھ کر دوقومی نظریے کا درس دیا کرتے تھے۔ بات یہ ہے کہ وہ جس معاشرے کا حصہ تھے وہ پوری دنیا کی مسلمان برادری سے کچھ اِسی طرح جُڑا ہوا تھا کہ اُس معاشرے کے ایک حساس فرد کے ضمیر کی تہہ میں اِس رشتے کا عکس دکھائی دینا لازمی بات تھی۔ 

میر کی اہمیت یہ ہے کہ اگر ہم اُن کے ضمیر میں جھانک کر برصغیر کے مسلمان معاشرے کا باقی دنیا کے مسلمانوں یعنی اپنے محبوب کے ساتھ رشتہ تلاش کریں تو وہ رشتہ ہمیں اِس سوال کی صورت میں ملتا ہے: کیا ہم برِ صغیر کے مسلمان بین الاقوامی مسلمان برادری سے رشتہ توڑ کر ہندی قومیت اپنا لیں؟

میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو اُن نے تو
قشقہ کھینچا، دَیر میں بیٹھا، کب کا تَرک اسلام کیا

یہ شعر ذرا غور سے پڑھیے، اسلام کی دولت ہاتھ سے جانے کا افسوس اور درد جس طرح اِس شعر میں جھلکتا ہے وہ صرف محسوس کرنے کی چیز ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہی سوال ڈیڑھ دو سو برس بعد برصغیر کے تمام مسلمانوں کے سامنے آیا اور اُنہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں ہم اپنی اسلامی قومیت پر جان، مال، عزت ناموس سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ واقعہ کہ کروڑوں مسلمانوں نے اسلامی قومیت پر سب کچھ قربان کر دیا بذاتِ خود انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعات میں سے ہے۔ 

مغربی محققین تو یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مسلمان پاگل ہو گئے تھے اور بھارتی مورخ بھی یہی دُہرا دیتے ہیں لیکن اگر ہم پاگل ہو گئے تھے تب بھی اِتنے بڑے پاگل دس بیس برسوں میں نہیں بنتے۔ کم سے کم دو تین سو برس پیچھے سے وجوہات تلاش کرنی پڑیں گی۔ ادب، فن، جذبات، محسوسات، ذہنی رویے اور دل کی دھڑکنیں آخر کس کس طرح پروان چڑھتے رہے تھے کہ اِتنی بڑی دیوانگی ہم سے سرزد ہوئی جس پر ہمیں دونوں جہانوں میں فخر ہو سکے۔  


زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

تب شاید ہمیں معلوم ہو کہ میر تقی میر نے محسوس کر لیا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو نشہ اِسی اسلامی قومیت کا ہے اور یہ نشہ اِتنا زیادہ ہے کہ اب اس میں اضافے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، اب کام بن چُکا ہے۔


آج بھی پاکستانی مسلمان شاید دنیا کا آخری مسلمان ہے جو علاقائی وطنیت پر فِدا ہونے کی بجائے ملتِ اسلامیہ کا روگ سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ ایرانی ہمیں گھاس نہیں ڈالتا، افغانی ہمارا نام آتے ہی گالیاں بکنا شروع کر دیتا ہے، عرب ہمیں حقیر سمجھتا ہے اور افریقی ہمیں غیر کہتا ہے مگر ہم ہیں کہ پھر بھی اسلامی وحدت کے نام پر ان میں سے کسی کے لیے بھی گھربار دوبارہ لٹانے پر تیار ہیں۔ اسلامی قومیت کو ایک نشہ سمجھ لیا جائے تو ہر پاکستانی دنیائے اسلام سے آج بھی کہہ سکتا ہے کہ

یارو مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں
اب جام دو تو خالی ہی دو میں نشے میں ہوں


اگر آپ اب بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ کیا میر کی شاعری میں واقعی اِتنی توانائی ہو سکتی ہے تو جواب یہی ہے کہ علامہ اقبال کی نظم "شکوہ" بھی میر ہی کی ایک مشہور نظم سے ماخوذ ہے۔ 


یہ بات علامہ کے قریبی دوست شیخ عبدالقادر نے ایک مضمون میں وضاحت کے ساتھ بیان کی۔ وہی شیخ عبدالقادر جنہوں نے بانگِ درا کا دیباچہ لکھا تھا۔ اب پہلے میر کی وہ نظم تلاش کیجیے، پھر بات آگے بڑھے گی۔ 


مگر آپ کہاں تلاش کریں گے، میں ہی اگلی پوسٹ میں بتا دوں گا۔

Sunday, 27 November 2011

اُردو ادب کے عناصرِ خمسہ

کالجوں میں ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ اُردو ادب کے پانچ عناصرِ خمسہ ہیں: سر سید احمد خاں، مولانا حالی، مولانا شبلی نعمانی، مولانا محمد حسین آزاد اور ڈپٹی نذیر احمد۔ کیا یہ بات درست ہے؟

اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اِن پانچوں بزرگوں نے جدید اُردو ادب کی تعمیر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا مگر اِنہیں جس طرح عناصرِ خمسہ کی ترکیب میں جوڑا جاتا ہے وہ بیسویں صدی کے شروع میں اُس وقت کیا گیا جب اُس وقت کے ادیبوں کی نئی نسل مولانا حالی کے بتائے ہوئے راستے سے ہٹنے لگی تھی۔

مولانا حالی کا بتایا ہوا راستہ یہ تھا کہ ادب کی قدر و قیمت قومی مقاصد کی روشنی میں متعین کی جاتی ہے۔ 

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سر سید، مولانا حالی اور مولانا شبلی نعمانی دوقومی نظریے کے امین تھے۔ انہوں نے ادب کی بنیاد قومی مقاصد پر رکھی۔ اس کے علاوہ ان تینوں بزرگوں کی نمایاں خصوصیت عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھی جس کے بارے میں مزید کچھ عرض کروں گا۔

مولانا محمد حسین آزاد اور ڈپٹی نذیر احمد کا معاملہ کچھ اور تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی خدمات سنہرے لفظوں میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ہمارے طلبہ کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان دونوں نے انگریزی ادب سے انشاپردازی اور ناول کی اصناف کو اُردو میں منتقل کرتے ہوئے بعض ایسی اختراعات کیں جو انگریزی میں موجود نہیں تھیں۔ ان کی وجہ سے اُردو ادب کا دامن زیادہ وسیع ہو گیا جس کا اندازہ ہمیں ابھی تک نہیں ہے۔ 

لیکن یہ دونوں بزرگ قومی محبت کے اُس تصور کے مبلغ نہیں تھے جو بقیہ تین بزرگوں نے پیش کیا تھا۔ شبلی کا ہیرو اورنگزیب تھا، آزاد کا ہیرو اکبرِ اعظم تھا۔ 

مولانا حالی نے شیخ سعدی شیرازی کی سوانح لکھی اور اُنہیں اپنا پیر و مرشد قرار دیا، اِسی طرح شبلی نعمانی نے سوانح مولانا روم لکھی۔ مگر ڈپٹی نذیر احمد نے شیخ سعدی کی گلستان پر اعتراض کیا کہ اس کے بعض حصے فحش ہیں اس لیے یہ کتاب طلبہ کو پڑھائے جانے کے لائق نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ پھر مولانا روم کی مثنوی کے بارے میں بھی ان کی یہی رائے رہی ہو گی۔

چنانچہ یہ ظاہر ہے کہ ان بزرگوں کے درمیان اس بات پر کچھ اختلاف ضرور تھا کہ ادب کے معاملے میں قوم کو کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ آخر میں قوم نے پانچوں بزرگوں کو عزت احترام کا مقام دیا مگر رہنمائی صرف سر سید، حالی اور شبلی کی قبول کی جبکہ آزاد اور نذیر احمد کے مشورے کو قوم نے قبول نہ کیا۔ 

جہاں تک عشق رسول کا معاملہ ہے ہمارے ادب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ کہ 1867میں سر سید احمد خاں نے جب خطبات احمدیہ لکھنے کا ارادہ کیا وہاں سے لے کر 1947تک پورے اسی برس ہمارے ادب پر ایسا دَور رہا جب عشق رسول کے سوا ہمارے پاس کوئی اور موضوع تھا ہی نہیں۔ سر سید کی سب سے اہم تصنیف کون سی ہے؟ خطباتِ احمدیہ۔ مولانا حالی کی سب سے مشہور نظم کون سی ہے؟ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا۔ مولانا شبلی کا سب سے بڑا کارنامہ کیا ہے؟ سیرۃ النبی۔ علامہ اقبال کی شاعری میں کون سا جذبہ سب سے زیادہ نمایاں ہے؟ عشق رسول۔

اُس زمانے کے بعض بزرگوں کی روایات ہم تک پہنچی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں بازار حُسن میں بھی مولانا حالی کی یہ نعت گائی جاتی تھی: وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا۔ یہ طاقت تھی اُس ادب کی اور یوں اُس نے معاشرے پر سحر قائم کیا تھا کہ مسجد سے لے کر گناہوں کے محلے تک کسی کو نہیں چھوڑا تھا۔

صوفیوں میں ایک مقولہ ہے کہ اگر کوئی مرید چالیس دن تک اپنے پِیر و مرشد کا
 تصور کرے تو اُسے مستقبل کی باتیں بھی معلوم ہو جاتی ہیں، غیب کے بعض اسرار خدا کی مرضی سے اُس پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ بات درست ہے یا نہیں لیکن میں اکثر یہ ضرور سوچتا ہوں کہ جس قوم نے اَسی برس تک سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں ڈوبنے ہی کو اپنا علم، ادب، تفریح اور سب کچھ قرار دیا ہو اُس کا مستقبل شاید خدا نے کچھ محفوظ کر دیا ہو۔  

خیر وہ ایک الگ بات ہے۔ اب آپ ویڈیو دیکھیے: وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے 
والا۔

Saturday, 26 November 2011

ملت کا پاسباں

ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح
علامہ اقبال کی شاعری جس مقام پر پہنچ کر ختم ہوئی وہ اُس منزل کا انتظار تھا جہاں قوم ایک روح کی طرح متحد ہو کر آزاد اسلامی ریاست کے لیے جدوجہد کرے۔ یہ منزل مارچ ۱۹۴۰ء میں آئی جب لاہور میں قراردادِ پاکستان پیش ہوئی۔ مسلم لیگ کے اس تاریخی اجلاس میں ایک نظم پڑھی گئی جسے علامہ اقبال کے بعد ہماری شاعری کا اگلا موڑ سمجھنا چاہیے: ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح۔

شاعر کا نام میاں بشیر احمد تھا۔ برسوں پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تاریخ میں  ڈگری لے کر اور لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کر کے وطن واپس آئے تھے اور ۱۹۱۸ میں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں اپنے آپ کو قوم کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسلامیہ کالج میں پروفیسری شروع کی۔ 

ان کے والد میاں شاہ دین ہمایوں لاہور کی ممتاز سماجی اور ادبی شخصیت تھے۔ علامہ اقبال کے ادبی سرپرستوں میں سے تھے۔ فوت ہوئے تو میاں بشیر نے ان کی یاد میں رسالہ ہمایوں نکالا جو بہت جلد ایک انتہائی اہم ادبی اور تفریحی رسالہ بن گیا۔ اس کے پہلے شمارے کے لیے نظم کی درخواست لے کر علامہ اقبال کے پاس گئے تو علامہ نے شاہ دین ہمایوں کی یاد میں وہ نظم لکھی جو بانگِ درا میں 'ہمایوں' کے نام سے شامل ہے اور جس کا آخری شعر بیحد مشہور ہے۔۔۔

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوامِ زندگی

تحریک پاکستان شروع ہوئی تو میاں بشیر احمد نے طلبہ کو مطالبہء پاکستان کے  لیے تیار کرنے میں دوسروں سے کچھ زیادہ ہی حصہ لیا۔ قائد اعظم بھی قدر کرتے تھے۔

کیا ایسا شخص اِس قابل بھی نہیں ہے کہ ہم اُسے شاعروں میں شمار کریں اور اُس کی شاعری پر سنجیدگی سے بات کریں؟ بدقسمتی سے ہمارے ادب کے ٹھیکیداروں نے یہی رویہ اپنایا ہے۔ شاید اس لیے کہ اگر علامہ اقبال کے بعد ہم میاں بشیر احمد پر پہنچ جائیں تو ہمارے ادب کی گاڑی کے پٹری سے اُترنے کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے بڑے ادیبوں کی پوری کوشش ہی یہی رہی ہے کہ ادب کی گاڑی کو ہائی جیک کر کے ماسکو، پیرس یا کہیں اور لے جائیں۔

میاں بشیر احمد کی نظم کی پہلی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے جن چیزوں کا تذکرہ محض تصور کے طور پر کیا تھا یا انہیں مستقبل میں حاصل کرنے کی امید دلائی تھی، یہ نظم اعلان کرتی تھی کہ وہ چیزیں اب حقیقت کے روپ میں ہمارے سامنے آ گئی ہیں۔ قوم کی روح، تقدیر کی اذاں، کارواں کا دوبارہ روانہ ہونا، وغیرہ وغیرہ یہ سب استعارے علامہ کی شاعری سے ماخوذ تھے جنہیں استعمال کرتے ہوئے میاں بشیر نے بتا دیا کہ اب ہمیں ان اشاروں کے لیے مستقبل کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں، صرف اسٹیج کی طرف دیکھنا کافی ہے جہاں محمد علی جناح مسلمانوں کے قائدِ اعظم کے روپ میں بیٹھے ہیں۔

دوسری خصوصیت یہ ہے کہ الفاظ اگرچہ وہی ہیں جو علامہ کی شاعری میں اکثر استعمال ہوئے اور عموماً فارسی آمیز ہیں، مگر میاں بشیر کی نظم میں وہ ذرا آسان ہو جاتے ہیں۔ گویا یہ نظم ایک رابطہ ہے جس کے ذریعے ہم نئے زمانے کی آسان اُردو سے شروع کر کے علامہ اقبال کی اُردو تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ رابطہ ٹوٹ جانے سے علامہ اقبال کے زمانے کی اُردو سمجھ میں آنا مشکل ہو جاتی ہے۔

تیسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ نظم مسلمان عوام میں بالکل اُسی طرح مقبول ہوئی جس طرح علامہ اقبال کی نظمیں مقبول ہوتی تھیں۔


ہم نے اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں جدید اُردو ادب اور جدید اُردو شاعری کےہ نام پر جو کچھ پڑھا ہے، جھک ماری ہے۔ آئیے آج پہلا سبق لیں: جدید اُردو شاعری یعنی علامہ اقبال کے بعد کی شاعری کا آغاز اسی نظم سے ہوتا ہے جو میاں بشیر احمد نے لکھی اور ۲۲ مارچ کو یعنی قرارداد پاکستان سے ایک روز قبل تاریخی جلسے میں پڑھی گئی اور جو بچپن سے ہمیں پسند ہے۔ 

کیا آپ کسی نظم کو صرف اِس لیے عظیم شاہکار تسلیم کرنے سے انکار کر دیں گے کہ وہ آپ کو پسند ہے؟ مجھے شبہ ہے کہ آپ نے اب تک شائد یہی کیا ہے۔ اب مت کیجیے۔ 


کسی نظم کے مقام اور مرتبے کا اندازہ اُس زمانے کی دوسری نظموں سے موازنہ کر کے بھی لگایا جاتا ہے۔ اب اندازہ لگائیے کہ جس زمانے میں یہ نظم پیش کی گئی قریباً اُسی زمانے میں فیض احمد فیض کی نظم "مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ" سامنے آئی تھی۔ کیا ہم اُس شخص کو ذہنی بیمار اور روحانی مریض نہیں کہیں گے جس کے خیال میں "مجھ سے پہلی سی محبت" تو ایک عظیم نظم ہو اور "ملت کا پاسباں" سرے سے ادب میں شمار ہونے کے قابل ہی نہ ہو؟


ہمارے پروفیسروں، دانشوروں اور نقادوں نے عموماً یہی کیا ہے۔ اُن کے دماغ خراب ہیں، خدا کے لیے اُن کے پیچھے چلنا چھوڑ دیجیے۔ وہ آپ کو صرف غلامی کے جہنم میں لے جائیں گے کیونکہ انہیں خود وہیں جانا ہے۔ آزادی انہیں راس نہیں آئی۔ وہ آپ کو آپ کے ادب سے، آپ کے ورثے سے محروم کر رہے ہیں۔


یہ آپ کا ادب ہے، آپ کا ورثہ ہے۔ کیا کسی کو حق ہونا چاہیے کہ آپ کو اِس سے محروم کر دے؟ اپنے ورثے کی حفاظت آپ نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ خدا کے لیے اپنے دل و دماغ سے فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیے۔ اُس بیماری سے نجات پائیے جو تعلیم کے زہر نے ہم سب میں پیدا کی ہے۔


ویڈیو دیکھیے اور کمنٹ کے تحت صرف اتنا لکھ دیجیے کہ کیا آپ کے خیال میں یہ ایک عظیم نظم ہے؟ [باقی آیندہ]۔


ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح

صد شکر پھر ہے گرمِ سفر اپنا کارواں
اور میرِ کارواں ہے محمد علی جناح

تصویرِ عزم، جانِ وفا، روحِ حریت
ہے کون؟ بے گماں ہے محمد علی جناح

لگتا ہے ٹھیک جا کے نشانے پہ اُس کا تیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناح

ملت ہوئی ہے زندہ پھر اُس کی پکار سے
تقدیر کی اذاں ہے محمد علی جناح 

Friday, 4 November 2011

تعلیم کا مقصد

یہ گدھا نہیں ہمارا معیارِ تعلیم ہے۔
بلند ہو رہا ہے۔
 ہم اپنا معیارِ تعلیم کس طرح بلند کر رہے ہیں، تصویر ملاحظہ فرمایے۔

گاڑی ہمارا تعلیمی نظامِ ہے، اُس کے آگے جو معزز جانور بندھا ہوا ہے وہ ہمارا معیارِ تعلیم ہے۔ گاڑی میں اِتنے بنڈل رکھ دیے گئے ہیں کہ بیچارہ معیارِ تعلیم  ہوا میں معلق ہو گیا ہے۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، شائد یہ وہاں پہنچ جائے کیونکہ اب اِس کا رُخ آسمانوں کی طرف ہو گیا ہے۔ مگر زمین پر تو دو قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔

تعلیم کو سب اچھا کہتے ہیں مگر کوئی نہیں بتاتا کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے۔ گھسی پٹی باتیں مت کیجیے۔ اچھا انسان وغیرہ بننے کے لیے تعلیم کوئی شرط نہیں۔ تہذیب اور شائستگی میں بھی آج کل تو اَن پڑھ لوگ انگریزی پڑھے ہوئے نوجوانوں سے آگے نظر آتے ہیں۔ دنیاوی کامیابی کی بات بھی مت کیجیے کہ بقول ابن انشا: تعلیم بڑی دولت ہے مگر جس کے پاس تعلیم ہوتی ہے اُس کے پاس دولت کیوں نہیں ہوتی اور جس کے پاس دولت ہوتی ہے اُس کے پاس تعلیم کیوں نہیں ہوتی؟

تعلیم کا صرف ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ اپنے معاشرے کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل ہو سکیں۔ آپ جہاں رہتے ہیں وہاں کے حکمراں بن جائیں۔ 

مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ میں ضرور پہنچیں۔ بلکہ جس شعبے میں بھی ہوں اپنے ملک کو چلانے، اُس کی راہ متعین کرنے اور معاشرے کے بارے میں فیصلے کرنے میں آپ اُتنا ہی حصہ لے رہے ہوں جتنا کہ حکومت۔ بلکہ حکومت کا کام صرف آپ کے فیصلوں کو نافذ کرنا ہو۔  

کیا ہماری تعلیم ہمیں اِس کے لیے تیار کرتی ہے؟ کیا یہ تعلیم ہمیں اِن معانی میں یا کسی بھی معانی میں "حکمرانی" کے قابل بناتی ہے؟

یہ مت کہیے کہ ہمارا معاشرہ ہی ایسا ہے کہ صرف جاہل اور دولتمند منتخب کیے جاتے ہیں۔ محمد علی جناح سے زیادہ ووٹ کس نے حاصل کیے ہوں گے؟ علامہ اقبال بھی اسمبلی کا الیکشن لڑے اور کامیاب ہوئے۔ ہمارے پہلے وزیراعظم ایک نواب کے بیٹے سہی مگر وزیراعظم بننے تک اُن کے پاس شاید صرف پھوٹی کوڑی ہی رہ گئی تھی اور مَرتے ہوئے تو بیوی بچوں کے لیے سر چھپانے کو  چھَت بھی نہیں چھوڑ کر گئے۔

وہ ہمارا آغاز تھا۔ اگر اُس کے بعد جاہل، ظالم اور حرام خور ہم پر حکومت کرنے لگے تو وجہ یہی تھی کہ انگریزوں کے جاتے ہی ہم نے نظامِ تعلیم بدل دیا۔ یہ اچھی بات تھی۔ مگر دانشوروں کی عقلوں پر پتھر پڑے ہوئے تھے کہ نیا نظامِ تعلیم بھی مغربی ماہرین ہی سے بنوایا۔ یعنی شکار خود شکاری کے پاس گیا کہ رنجش ہی سہی، دل ہی دُکھانے کے لیے آ۔

ذرا اُردو بازار کا چکر لگا کر پرانی درسی کتابیں تلاش کیجیے۔ معلوم ہو گا کہ 1953کے لگ بھگ ہماری درسی کتابیں موسسہ فرینکلن کی مدد سے تیار ہونے لگی تھیں۔ سِلور برڈٹ کمپنی دیدہ زیب کتابیں اُردو میں تیار کر کے ہمیں دے رہی تھی۔ غیر کی دہلیز پر ماتھا ٹیکنے سے معیارِ تعلیم بلند ہو رہا تھا۔

ہمارا معیارِ تعلیم اُسی طرح بلند ہوا جیسے تصویر میں گدھے کے پاوں بلند ہوئے ہیں۔ تعلیم نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ اپنے ملک کی گاڑی کو دو قدم بھی آگے کیسے بڑھایا جاتا ہے۔ اپنے معاشرے کے لیے کوئی نئی راہ اختیار کرنی ہو تو کیسے کرتے ہیں؟

آپ نے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ملک پر حکومت کیسے کی جاتی ہے؟ نہیں معلوم ناں۔ آئیے اِسی بات پر ویڈیو دیکھتے ہیں:

Saturday, 8 January 2011

Why Islamic State

If certain features of “Islamic state” (as conceived by the founding fathers of Pakistan) overlap variously with theocracy, secularism and socialism, why not start with one of those? Many answers to this pertinent question are scattered throughout the writings and statements of Allama Iqbal, Quaid-i-Azam, Liaquat Ali Khan and other leaders of the Pakistan movement. Here, we may look at three of the simplest answers.

Firstly, the founding fathers believed that Western democracy (of which secularism is a corollary) played a very important role in history but had failed by the early decades of the twentieth century (Iqbal’s observations about the “reaction against democracy in England and France” have already been shared in some recent posts of this newsletter. Quaid was of the same opinion as will be seen here).

Secondly, if Western democracy had failed, obviously the world needed fresh input for the sake of freedom, equality and liberty. This fresh input, according to the founding fathers, was an “Islamic state”.

The following is one of the dozens of statements of Quaid which can be used for understanding the two above-mentioned points:

In Pakistan we shall have a state which will be run according to the principles of Islam. It will have its cultural, political and economic structure based on the principles of Islam. The non-Muslims need not fear because of this, for fullest justice will be done to them, they will have their full cultural, religious, political and economic rights safeguarded. As a matter of fact they will be more safeguarded than in the present-day so-called democratic parliamentary form of Government. (Bombay, February 1, 1943; quoted in Secular Jinnah and Pakistan by Saleena Karim on p.136).
The third reason was that the people wanted it (minus, perhaps, “the intelligentsia and the so-called educated”). Liaquat Ali Khan stated it best when he told an American audience in 1950:

We do not have to present this ideology to our people as a new manifesto. The principles I have stated are part and parcel of Islam and when we say that we want to follow the Islamic way of life what we mean is that we could not possibly do otherwise. (N.B. This quote is not from Saleena Karim's book).
By the way, if one thinks that only Muslim masses wanted this “Islamic state”, one is in for some surprise in Saleena Karim’s book – especially in Appendix II, ‘Non-Muslims on Jinnah and Pakistan’. The letters written to Quaid by a Lahore-based native Christian woman and from a Hindu in Darjeeling are eye-openers.

Just to check how much you know about Pakistan, try making a guess which prominent Pakistani Christian wrote the following words – as late as November 1977:

If you have looked at the basic doctrine of Islam, its truth and strength-in-simplicity, the potencies for growth, spiritual integrity for the individual, outward and visible power through unity for the community, that are built into its rituals of namaz [prayer], the fast and the pilgrimage, which are still being extensively practiced, the reason for the current of Islamicization [“Islamization”] in Muslim countries, that have re-sensed their identity and place in the World, will become apparent.
Yes, these words were written by a Pakistani Christian who was one of the most prominent public figures in our history. Turn to pp.261-2 of the book to find out who was he (and hopefully, there will be more about him in some future post of this newsletter).

Monday, 3 January 2011

Islamic State (1)

Allama Iqbal, Qauid-i-Azam and Liaquat Ali Khan believed that the features of an Islamic state in modern times would include the following.

  1. SOVEREIGNTY: Sovereignty belongs to God, which means that the people as well as the state must treat the entire humanity as family and cannot adopt policies that refute this organic unity of the humankind.
  2. DEMOCRACY: Democracy is the most important aspect of Islam regarded as a political ideal, and therefore the state must be ruled by representatives chosen by the people.
  3. EQUALITY BEFORE LAW: Non-Muslims can also become executive heads (such as prime ministers) as long as they get themselves duly elected. However, the state may restrict the office of the ceremonial head (such as President without any real power) exclusively to Muslims.
  4. SOCIAL JUSTICE: Not only illegal means of acquiring wealth should be outlawed but also all forms of economic exploitation: the state must ensure economic equality through “Islamic socialism”.
  5. INNOVATION: Islamic state is constantly evolving through history, and it may take some other form in future (possibly where government is not needed anymore). However, the development can only be towards more empowerment of the people, and greater democracy, rather than the other way around.
Is this really Islam? Did Iqbal, Quaid and Liaquat Ali Khan actually believe this? If so, why didn’t we know? These are the most common questions that come up whenever I discuss these ideas.

Usually, I do not answer the first question. I believe that every Muslim has the right to interpret religion in their own way, and also has the right to consult a religious scholar out of free will. I am not a “religious scholar” as such, and my role as a historian ends on telling whether or not a certain idea was shared by some people in the past.

I know it as a historical fact that Iqbal, Quaid and Liaquat Ali Khan were unanimous on the above-mentioned concepts but whether they were right or wrong is not for me to judge.

The good news is that all three questions (and many, many, more) have been answered – elegantly and at length, with all the supporting evidence needed for the discussion – in Secular Jinnah and Pakistan: What the Nation Doesn’t Know by the distinguished researcher, Saleena Karim.

In the previous post I shared my observation that contrary to some other interesting studies about the Quaid, this one doesn’t make a painful reading for an average Pakistani. You may or may not agree with the author, but nowhere shall you feel as if she is unsympathetic to your religious sentiments, or trying to impose her views. Besides, the enormous amount of archival material presented here is valuable for its own sake. This includes excerpts from the writings, speeches and statements of the founding fathers; passages from parliamentary debates; arguments from Quran, and much else beside.

In the presence of this book, it shall become increasingly difficult for anyone to prove that the above-mentioned five points about an Islamic state were not shared by the founding fathers of Pakistan (just for record: the statements here are worded by me, but I hope that I was correct in inferring them from the book).

So, let’s move on to the last question: if this was the founding fathers’ idea of an Islamic state, why didn’t we know? This shall be discussed in the next post, but here is a hint: the answer is in the five statements themselves. Look again.

Thursday, 4 November 2010

Respect the Law

The following is my article published in Dawn on October 29, 2010, as Friday Feature, 'Respecting the Law'. Some of the wording might be slightly different from the printed version.
With the birth of Pakistan, the Muslim community of the sub-continent not only created a new country but also a new nation. The first goal of this nation was to achieve a kind of organic unity, and Pakistan itself was the tool for achieving it. Respecting the law was the ideal to be kept in front. Studying the history of Pakistan in this light, one finds many indicators suggesting that the goal was achieved by 1966.

Obviously, this requires us to understand three concepts first. They are (a) organic unity; (b) Pakistan as a tool for achieving it; and (c) the significance of respecting the law in this special context.

The organic unity intended here is based on a portion of Verse 28 of Surah Luqman (Chapter 31 of the Quran). It is translated by Iqbal as, “Your creation and resurrection are like the creation and resurrection of a single soul.” Creation and resurrection are biological concepts, and hence the kind of unity implied in this verse is a biological unity, as if entire humanity was a single organism and individuals were its parts. If such a connection exists between all human beings, then obviously it is moderating the worldly and spiritual power of each individual, whether he or she knows it or not.

Giving us awareness of this connection is the aim of religious thought, according to Iqbal. However, thought alone cannot be sufficient. We need a practical tool as well. Hence, in the preface of The Reconstruction of Religious Thought in Islam (1930), Iqbal wrote, “A living experience of the kind of biological unity, embodied in this verse, requires today a method physiologically less violent [than the methods devised by the past masters] and psychologically more suitable to a concrete type of mind.”

The same year, while presiding over the annual session of the All-India Muslim League at Allahabad, he seemed to be suggesting that the achievement of a Muslim homeland in the region could become, somehow, the new method through which this kind of organic unity would be realized. In his presidential address, after proposing and predicting the birth of a Muslim homeland, he went on to suggest, “One of the profoundest verses in the Holy Quran teaches us that the birth and rebirth of the whole of humanity is like the birth and rebirth of a single individual. Why cannot you who, as a people, can well claim to be the first practical exponent of this superb conception of humanity, live and move and have your being as a single individual?”

Hence, if we could “live and move and have [our] being as a single individual,” we would experience what is meant by the Quran when it says that the creation and resurrection of the humanity is like the creation and resurrection of a single soul (and it seems that neither Iqbal nor Jinnah meant to exclude the non-Muslim citizens of the Muslim homeland, since according to the Quran, this organic unity is a biological fact that moderates the existence of every individual on this planet).

If Pakistan was the tool – “a method psychologically suitable to a concrete type of mind” – for discovering this organic unity, how was this tool going to be used? The most logical answer was, by respecting the law. This was how the homeland had been achieved in the first place, and even against the bitter opposition by powerful and unfair adversaries.

The first twenty years of Pakistan present a curious case study when visited in the light of this ideal. It seems as if the educated elite and the intelligentsia were on one side, often ignoring the significance of the ideal and the implications of the recent history. Apparently, due to the one hundred and fifty years of British domination, much power had been left in the hands of the liberals and those who favored secularism in some form. Quite often they were found to be guilty of abusing that power, for instance when Chief Justice Muhammad Munir, a self-proclaimed believer in secularism, upheld the decision of Governor-General Ghulam Muhammad to abrogate the elected parliament. Conservatives and socialists, perceiving that the just demands of the people were being suppressed, would often invite the masses to agitation and direct action. When the masses chose to ignore such calls, they were accused of lacking in political awareness.

Hence, the unschooled masses of Pakistan seem to be standing on the other side, clearly distinguishable from the reactionary educated elite and the intelligentsia. At least three successive events in the last three years of this period should have vindicated the masses against the widespread accusation of being politically unaware. These were the tremendous unity displayed in supporting Fatima Jinnah against Field Marshall Ayub Khan in the presidential election of 1964, the display of patriotism during the 1965 War and the general outcry against Ayub Khan after the signing of the treaty at Tashkent in 1966.

These are some indicators in terms of the broader current of history only. Understanding and experiencing their deeper meaning requires us to revisit our literature, politics and religious thought with a new approach, which has never been attempted (and unfortunately, our education offers us little preparation for such a task). However, in terms of the general outline of the story of our ideals as a Muslim nation, the year 1966 seemed to be the moment when the ambiance of being a ‘new country’ had ended, and the nation seemed poised for starting a new stage, together.

Saturday, 30 October 2010

Rise Above Yourself

The following is my article published in Dawn on October 15, 2010, as Friday Feature, 'For a common destiny'. Some of the wording might be slightly different from the printed version.
The election of 1926 was the first occasion when Muslim masses voted in large numbers according to separate electorate. However, in the assemblies that were inaugurated the next year as a result of this election, no single party had emerged as common leader of the entire Muslim community. It seemed as if there was no new ideal, no commonly agreed goal anymore, and hence no means for a collective effort.

This, however, did not last very long. In 1928, Congress demanded through Nehru Report that separate electorates should be abolished. Apparently, it was impossible for an Indian nationalist to understand what a separate electorate meant to a Muslim.

Unity of matter and spirit as a philosophical concept may be incomprehensible by ordinary persons but the activities of the Aligarh Movement and its offshoots in the past sixty years had been sufficient for showing even the most unschooled Muslim how literature, politics, religion and education were interconnected as far as the Muslim community of the region was concerned. Separate electorate appeared to be a tool for formalizing this unity of ideals and reality. Hence when Nehru Report questioned the separate electorates in 1928, Muslim leaders who disagreed on everything else suddenly agreed to disagree with the Hindu majority on this issue.

Against this backdrop, Allama Iqbal, who was also a successful candidate of the election of 1926, presided over the annual session of the All-India Muslim League held in Allahabad on December 30-31, 1930. There, he proposed a new goal. It was “a consolidated North-West Indian Muslim state”, which appeared to him to be “the final destiny of the Muslims at least of the North-West India.”

Thus, Pakistan became the next goal to be achieved (and Iqbal left open the possibility of it being “within the British Empire, or without the British Empire”). Separate electorates then became the tool through which the new goal, Pakistan, was to be achieved.

The ideal to be pursued whilst in quest for Pakistan was “selflessness”, which Iqbal had been preaching at least since 1906. It was embodied in verses that had become proverbial to at least two successive generations, such as the famous line from a 1912 poem, “An individual is sustained by its bonding with the nation and is nothing on one’s own, just as the wave exists in the river and is nothing on its own.”
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
As explained in his longer poems and his lectures, selflessness (or bekhudi) was an experience through which an individual could annihilate his or her individual ego (khudi) and arrive at the next level, which was the collective ego, thus acquiring a greater wisdom inaccessible to the individual ego alone.

Iqbal’s conception of a collective ego did not mean that one should cease to have personal opinions, or renounce the freedom of thought and expression. Selflessness was not an act of the mind but an act of love, through the heart. It could only be induced through highly entertaining literature (as Iqbal did in his own times) and could never be imposed through repressive legislation (in fact the suppression of individual liberties could become a hindrance, since it curtails selflessness by enhancing mistrust).

This emphasis on transcending the individual ego was timely, since the elections of 1926 had presented a highly egotistical picture of the community. “Things in India are not what they appear to be,” he said in the Allahabad Address. “The meaning of this, however, will dawn upon you only when you have achieved a real collective ego to look at them.”

Selflessness, or rising above oneself, became the new ideal as the demand for Pakistan gained momentum under the leadership of Jinnah, “the Great Leader”, whom his followers came to see as the incarnation of their ideal in flesh and blood. How the new state came into being is a story that belongs to political history. What ought to be noted here is that the goal was achieved through the election of 1945-46 when an overwhelming majority of Muslims voted for Pakistan, especially in provinces where they were in a minority and were not going to be included in the proposed state.

Pakistan could not have come into being without their support but voting for Pakistan meant invoking the almost inevitable wrath of the future rulers of India. They voted, and they paid the price with their blood and tears. Recorded history of the human race may not offer another instance when such a large number of people made a common decision that required such high degree of selflessness.

Iqbal had said in the Allahabad Address, “Rise above sectional interests and private ambitions, and learn to determine the value of your individual and collective action, however directed on material ends, in the light of the ideal which you are supposed to represent.” The Muslim masses of India could not have followed his words more diligently.

Friday, 30 July 2010

Workshop on the Power of Consensus

SOIS (Society of Iqbal Studies) presents
The Power of Consensus
How are our personal opinions related to opinions of the society, and do we lose or win by respecting this connection? What are the types of consensus and how do we recognize them? Why do we need to recognize them? Are there existing sources of moral power which we have failed to utilize? How can we empower ourselves with the least effort?
These are some of the core issues of Iqbal Studies that will be addressed in a two-hour session conducted by Khurram Ali Shafique, Research Consultant, Iqbal Academy Pakistan.
Saturday, July 31, 2010
4 pm to 6 pm
I2L Academy, 201-O, Block 2 (Opposite Ghausia Mosque), P.E.C.H.Society, Karachi.
Contact: Dr. Irfan Haider, hyder@pafkiet.edu.pk
For Directions: Mr. Waqar, 0346 321 6009
  1. Driving on Tariq Road, if you are going from the liberty signal towards Allah Walla Chowk, take third left, and then take fourth right. Masjid Ghausia would be on your left (if you don’t see the Masjid, you are lost; ask for it). I2L Academy (201/O) is right in front of the shops in the Mosque adjacent to International School.
  2. From Allah Walla Chowk if you are on Shahrahe Quaideen, going towards nursery, take left on the road just after McDonalds. Then, take fifth right. On your left would be Imperial Court (Chinese Restaurant). Go down and then take 3rd right. Masjid Ghausia and its shops would be on your left. (if you don’t see the Masjid, you are lost; ask for it). I2L Academy (201/O) is right in front of the shops in the Mosque adjacent to International school.

Monday, 14 June 2010

Afghanistan: mineral wealth of more than $900 billion found

The latest about Afghanistan is that vast mineral wealth has been discovered there, enough to turn the country into Saudi Arabia of mining. Of course, most media is using headlines such as "US finds mineral riches in Afghanistan." Details suggest that the wealth is enough to turn Afghanistan into an ultra rich country as well as financing the US war in Afghanistan. Hence one can begin to wonder about the ulterior motives of foreign powers and about how much of this wealth will eventually go to the people of Afghanistan (see details in The New York Times and Yahoo! News).


Those familiar with the work of Allama Iqbal may recall the apt advice offered by him on this matter long ago. In 1923, he dedicated his second volume of poetry, Payam-i-Mashriq (A Message from the East) to King Amanullah of Afghanistan and suggested that Afghanistan should pay attention to acquiring modern knowledge for extracting its mineral resources while at the same time building moral strength and sharpness of mind for defending them. In his latter writings, Iqbal went on to suggest that Asia was a single organism and the Afghan nation was like the heart in it: the whole body would remain ill as long as the heart was diseased.

The dedicatory epistle addressed to King Amanullah has been summarized in Chapter 32 of the revised version of The Republic of Rumi (available online on blog as well as website).

The following is translation of an excerpt from the original (translation is by late Hadi Husain), followed by link to the chapter of RR which summarizes the poem.
Life is a struggle, not beseeching rights;
And knowledge is the arms with which one fights.
God ranked it with the good things that abound
And said it must be grasped, wherever found.
The one to whom the Quran was revealed,
From whom no aspect of truth was concealed,
Beheld the Essence itself with his eye;
And yet “God, teach me still more” was his cry.
Knowledge of things is Adam’s gift from God,
The shining palm of Moses and his rod,
The secret of the greatness of the West,
The source of all that it has of the best.
We would see, if our spirits had true zest,
Nothing but diamonds in the roadside dust.
Knowledge and wealth make nations sound and strong,
And thus enable them to get along.
For knowledge cultivate your people’s minds;
For wealth exploit your mineral finds.
Go, plunge a dagger into your land’s bowels;
Like Somnat’s idol it is full of jewels.
In it do rubies of Badakhshan lie;
In its hills is the thunder of Sinai.
 See details in Chapter 32: The King of Afghanistan

Monday, 7 June 2010

The DNA of Social Studies

I would like to share a few things from the workshop which I am conducting these days at Educational Resource Development Centre (ERDC), Karachi. It is called Breaking the Code: the DNA of Social Studies.

The concept is that just as DNA is a basic code encompassing the entire range of development the organism may potentially achieve, so there are a few basic truths about an area of study which yield an overall plan into which new developments may easily fit as the learner goes along.

The workshop consists of seven sessions:
  1. Ancient Civilizations
  2. Modern History
  3. Iqbal
  4. An Overview of Geography
  5. Civics: a Mind Map for Pakistani Learners
  6. Pakistan: understanding the idea and the reality
  7. Recap and Conclusions
A shorter version conducted for teachers last month became quite popular, so this is a longer version for students as well as teachers. Personally, for me, its a nice experience to be addressing "house full" sessions once again (the current round has 35 participants, which is the maximum capacity of the venue).

Sunday, 6 June 2010

Workshop about Iqbal

I conducted a workshop with Social Studies teachers and trainers in Lahore on Saturday, May 29. The following is a report of that workshop by Manzoor Malik in Dawn (published on May 31, 2010).
THE Association for Social Studies Educators and Teachers (ASSET) in collaboration with Iqbal Academy on last Saturday organised a “Movie and workshop session on Allama Iqbal” at the Idara-i-Taleem-o-Aagahi main office.

Facilitated by Iqbal Academy Pakistan’s research consultant Khurram Ali Shafique, the session included Iqbal’s concept of Pakistan and a few tips for looking at history and Pakistan Studies in the light of his ideas.
Iqbal’s greatest work ‘Javidnama’ was also introduced at the session and the participants were enlightened with seven stages of personal development, found through the works of Iqbal.

At the session, excerpts from the Allahabad address: Iqbal’s concept of Pakistan and Iqbal’s poems for children were also discussed.

Wednesday, 19 May 2010

Freedom of expression and genuine artists

So you think that a great poet or artist never compromises and pays very little attention to commercial considerations? Factual evidence suggests otherwise. Consider three of the greatest poets of all times.

With one possible exception, William Shakespeare wrote all his plays for the box office. In his own lifetime and for more than a century after his death, he was not as much recognized for being a masterful playwright as he was for being a successful one. His colleagues who compiled the authoritative collection of his plays after his death complied with the latest censorship policies: several expressions from Shakespeare's work were struck out and many of those have never reached us. Still, that has not prevented us from appreciating the genius of Shakespeare..  

Johann Wolfgang von Goethe, on the suggestion of his publisher, self-censored several words and phrases in his greatest masterpiece Faust ("very characteristically", accordng to the scholar Walter Kaufmann).

Almost all the greater Urdu poems of Dr. Sir Muhammad Iqbal were written with the aim of collecting money for orphanages and other philanthropic causes - yes, these include 'Tasveer-i-Dard',  'Shikwah', 'Jawab-i-Shikwah', 'Khizr-i-Rah' and 'Tulu-i-Islam'. Moreover, when certain portions of Iqbal's first Persian book were severely criticized by his audience, he happily deleted them from the next edition. His famous prayer was, "May my pen never hurt any heart...":

مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دُکھے
گلہ کسی سے نہ ہو زیرِ آسماں مجکو 

These artists used the feedback of their societies as reality check. We know what they - Shakespeare, Goethe and Iqbal - have offered to humanity. As compared to them, the other kind of artists who whine about freedom of expression and regard petty egoism to be more important than love, what have they offered? Please ask this question to yourself.

Also, if you have the time, do a simple exercise. Pick up the work of a typical "high culture" artist who claims to be oh so far above his or her society. Then scan the work for a single theme: hypocrite. I promise that you shall be amazed at what comes up (some examples can be offered on this blog if readers are interested).