Pages

Showing posts with label Literature etc. Show all posts
Showing posts with label Literature etc. Show all posts

Thursday, 29 December 2011

رانا پیلس

رانا پیلس
ابن صفی
ترتیب، تدوین اور حواشی: خرم علی شفیق
ناشر: فضلی سنز

دل سے دماغ و حلقہ ء عرفاں سے دار تک
ہم خود کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے کہاں کہاں
اَسرار ناروی

بہت ہی بھیانک قسم کے ذہنی ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہوں۔ ورنہ میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں۔ لیکن 1947ءمیں جو کچھ ہوا اُس نے میری پوری شخصیت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا
ابن صفی


پہلی بات
مرتب کی طرف سے کچھ گزارشات

آئیے کچھ دیر کے لیے فرض کر لیں کہ

پاکستان کی ہر گلی میں لائبریری قائم ہے۔ لوگوں میں مطالعے کا شوق اِتنا بڑھ گیا ہے کہ کرایہ دے کر بھی لائبریری سے کتابیں لینے پر تیار ہیں۔ بچے، بڑے، بوڑھے اور گھر کی عورتیں بھی اِس شوق میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ ہر محلے میں بُک اسٹال کُھل گئے ہیں بلکہ جنرل اسٹور، بیکری اور کولڈ ڈرنک کی دکانوں پر بھی کچھ نہ کچھ کتابیں ضرور رکھی جاتی ہیں کیونکہ سب سے زیادہ بِکنے والی چیز ہی کتاب ہے۔
یہ شوق صرف اُن لوگوں تک محدود نہیں ہے جو پڑھ سکتے ہیں۔ جو پڑھنا نہیں جانتے وہ بھی کتابیں خریدتے ہیں۔ کسی پڑھے لکھے کے پاس لیجاتے ہیں اور فرمایش کرتے ہیں کہ وہ پڑھ کر سنا دے۔ چنانچہ آپ کسی رکشے میں بیٹھیں تو رکشہ والے کی گدی کے پیچھے اوزاروں کے علاوہ کوئی کتاب ضرور ہو گی۔ بس میں جائیے تو ڈرائیور نے ڈیش بورڈ میں ایک آدھ کتاب رکھ چھوڑی ہو گی۔ ورکشاپوں میں گریس لگی ہوئی کتابیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جہاں جسے موقع ملتا ہے وہ شروع ہو جاتا ہے۔
پڑھنے والے اِتنے ہیں تو لکھنے والے کیوں کم ہوں۔ شاید ہر گلی میں دو تین ایسے لوگ مل جائیں گے جو کتاب لکھے بیٹھے ہیں۔ پبلشر کی تلاش میں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی پبلشرز نمودار ہو گئے ہیں، بڑے شہروں کا تو پوچھنا ہی کیا۔ کتاب ایک منفعت بخش کاروبار بن گئی ہے لیکن اِس پر چند بڑے ناموں کی اِجارہ داری نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص کتاب لکھ کر، چھاپ کر، بیچ کر یا کرایہ پر دے کر اَپنے اور گھر والوں کے لیے روزگار فراہم کر سکتا ہے۔
کیا آپ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں ایسا پاکستان ممکن ہے؟
ہو سکتا ہے کہ آپ پہلے سوال کا جواب اثبات میں اور دوسرے کا نفی میں دیں۔ (اکثر لوگوں نے مجھ سے یہی کہا ہے کہ وہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں مگر اُن کے خیال میں یہ ممکن نہیں ہے)۔

لیکن میں نے جو نقشہ کھینچا گیا وہ ہمارا مستقبل نہیں بلکہ ماضی ہے۔ پاکستان بننے کے دس گیارہ برس بعد ہی یہ ماحول قائم ہو گیا تھا اور تقریباً ۶۸۹۱ءتک رہا۔
جو لوگ اُس وقت موجود تھے اُنہیں یاد ہو گا (اور یہ اُن کی مہربانی ہے کہ اِس کی یادیں بھی نئی نسل تک منتقل نہیں کی ہیں)۔ بدنصیبی ہے کہ جس قوم کا آغاز اِس شان کے ساتھ ہوا آج اُس کی یہ حالت ہے کہ کتابیں چھپنے، پڑھنے، بیچنے اور خریدنے کا کام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کتابوں کی دکانیں صرف چند بازاروں تک محدود ہیں۔ پڑھنے والے اب بھی کتابوں پر بڑی رقومات صرف کرتے ہیں لیکن یہ شوق صرف چند لوگوں تک رہ گیا ہے۔ والدین، اساتذہ اور دردمند لوگ عموماً یہی رونا روتے دکھائی دیتے ہیں کہ معاشرے میں کتب بینی کی عادت ختم ہو گئی ہے۔
چنانچہ اَصل سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اِس ماحول کو ختم کرنے کے ذمہ دار دانشور، اساتذہ اور والدین ہیں۔ اُن کے سوا کسی پر بھی اِس کی ذمہ داری عاید نہیں کی جا سکتی- نہ غریب عوام، نہ کسی فوجی ڈکٹیٹر نہ کسی اور قسم کی حکومت پر۔ جس زمانے کا یہ تذکرہ ہے اُس زمانے میں والدین اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے پر ڈانٹتے ہی نہیں تھے بلکہ اِس بات پر پٹائی بھی کر دیتے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ بچوں کو اُردو میں صرف درسی کتابیں پڑھنی چاہئیں ورنہ انگریزی ناول پڑھیں تاکہ انگریزی اچھی ہو جائے۔ چنانچہ والدین کے خیال میں کتابیں پڑھنے کا شوق چرس، افیون اور گانجے کی طرح تھا۔ بچے اپنے والدین سے چھُپا کر کتابیں پڑھتے تھے۔ پکڑے جاتے تو مشکل درپیش آتی۔

اسکولوں میں اساتذہ کا بھی یہی خیال تھا۔ کسی بھی وقت بستوں کی تلاشی لے لی جاتی تھی۔ جس طالب علم کے بستے سے درسی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب نکلتی اُسے سزا ملتی۔ کتاب عموماً ضبط کر کے اسکول کی لائبریری میں داخل کر دی جاتی تھی مگر کبھی کبھی اساتذہ بچوں کو عبرت دلانے کے لیے کتاب پھاڑ کر پُرزے پُرزے بھی کر دیتے تھے (یہ منظر میں نے اپنے اسکول کے زمانے میں خود کئی بار دیکھا)۔ چنانچہ بچے کئی دفعہ کتابیں قمیص کے نیچے یا جرابوں میں اُڑس کر چھُپا لیتے۔ اسکول میں بدمعاش طالب علم کا تصور یہی تھا کہ اُس کے پاس سے 
کتابیں برآمد ہوں گی

 یہ حقیقت جُھٹلائی نہیں جا سکتی کہ ہمارے اسکولوں نے مسلسل تیس برس تک یہی 
روش اپنائے رکھی۔ کالجوں، یونیورسٹیوں، اکیڈمیوں اور ادبی انجمنوں کی رائے میں بھی پوری قوم جو کتابیں پڑھ رہی تھی وہ غلط کر رہی تھی۔ ہمارے پروفیسروں، دانشوروں اور نقادوں کے نزدیک ادب اور ثقافت کے پیمانے کچھ اور تھے (جن کا تذکرہ کرنے کی شاید یہاں کوئی ضرورت نہیں)۔ انہی کی سوچ سے وہ جذباتی رویے فروغ پا رہے تھے جن کے تحت اسکولوں اور گھروں میں کتابیں پڑھنا جرم قرار دیا گیا تھا۔

چنانچہ یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ وہ ماحول کیوں ختم ہو گیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اُسے واپس لانا بیحد ضروری ہے ورنہ ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ اِس کے لیے سب سے پہلے ہمیں ایمانداری کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کون صحیح تھا: قوم یا دانشور؟

قوم کے منتخب کیے ہوئے ادب کے سب سے بڑے نمایندہ اَسرار احمد ناوری تھے جنہیں عموماً قلمی نام ابن صفی سے پہچانا جاتا ہے۔ انہی نے چند دوستوں کے ساتھ اِس تہذیبی انقلاب کا آغاز کیا تھا۔ تعلیمی اِداروں اور دانشوروں کی طرف سے کتابوں کے خلاف جو طوفان اُٹھایا گیا، یہ اُس کے خلاف چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ جب تک وہ زندہ رہے، پاکستان میں کتابیں پڑھنے کا رجحان کم نہ ہوا۔ اِسی دوران ریڈیو نے مقبولیت حاصل کی، فلموں کا سنہرا دَور شروع ہوا، ٹیلی وژن آیا اور بلیک اینڈ وہائٹ سے رنگین ہو گیا۔ لوگوں نے اِن تمام دلچسپیوں میں حصہ لیا مگر کتابوں سے منہ نہ موڑا۔ 1980ءمیں ابن صفی فوت ہوئے۔ چند ہی برس بعد وہ لائبریریاں اور بُک اسٹال اچانک غائب ہوگئے جو گلی گلی کُھلے ہوئے تھے۔

سائیکومینشن مِیں مَیں نے ابن صفی کے جاسوسی ناولوں میں سے ایسی تحریروں کا انتخاب پیش کیا تھا جن میں جاسوسی بالکل نہیں تھی بلکہ معاشرے کے بارے میں عمیق مشاہدات یا پھر طنز و مزاح تھا۔ ان کی روشنی میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ عوام کا فیصلہ درست تھا اور ہمارے دانشور غلط تھے۔ یقیناً یہ ادب اُس پذیرائی کے لائق تھا جو عوام نے کی۔

اب دانشوروں کے اعتراض کا دُوسرا پہلو رہ جاتا ہے۔ ابن صفی کے ناولوں میں جاسوسی کا عنصر غالب ہوتا تھا اور بظاہر ہمارے دانشوروں کو اِسی پر اعتراض تھا۔ رانا پیلس میں ایسے ہی حصوں کا انتخاب پیش کیا جا رہا ہے تاکہ آپ خود فیصلہ کر سکیں کہ جاسوسی عنصر کی نوعیت کیا تھی۔

کتاب کے تین حصے ہیں

حیرت نامہ میں تیرہ ناولوں کے ایسے اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں جو قارئین کو تحیّر کی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
کردارنامہ میں چودہ ایسے اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں جن میں ابن صفی کے ناولوں کے مستقل کردار متعارف ہوتے ہیں (ظاہر ہے کہ ان میں سے اکثر کردار سائیکومینشن اور رانا پیلس کے دوسرے حصوں میں بھی آئے ہیں مگر یہاں اِن کرداروں کا مفصل تعارف ہو رہا ہے)۔
سیاحت نامہ میں تیرہ ایسے اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں جن میں ابن صفی کے کردار کسی بیرونی ملک میں موجود ہیں۔

رانا پیلس میں تحقیقِ متن کے لیے جناب راشد اَشرف کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو ابنِ صفی کے محقق ہیں۔ جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی انہوں نے اولین ایڈیشنوں کے ساتھ متن کا موازنہ کر کے تصحیح کی۔ ابنِ صفی ویب سائٹ کے مہتمم جناب حنیف احمد نے گراں قدر مشورے دیے اور بروقت بعض معلومات فراہم کیں۔
ابن صفی کے قانونی ورثا کا بھی شکرگذار ہوں جنہوں نے اِس انتخاب کو شائع کرنے کی اجازت دی۔ ابن صفی کے صاحبزادے ڈاکٹر احمد صفی اِس پوری مہم میں میرے ساتھ برابر کے شریک رہے ہیں۔

ایک اہم اطلاع ہے کہ ابن صفی کے بارے میں انٹرنیٹ پر مزید جستجو کرنی ہو تو
www.ibnesafi.info ابن صفی کی خاص ویب سائٹ ہے جس کے خالق اور مہتمم جناب محمد حنیف ہیں۔

http://www.wadi-e-urdu.com محقق راشد اشرف کی وَیب سائٹ ہے۔

www.facebook.com/ibnesafi فیس بُک پر ابنِ صفی کا صفحہ ہے۔

اِن تینوں کاوشوں کو ابنِ صفی کے قانونی ورثا کی سرپرستی حاصل ہے۔
خرم علی شفیق
khurramsdesk@gmail.com

Friday, 16 December 2011

مشرقی پاکستان

انیس سو ستر میں پاکستان میں انتخابات ہوئے۔ عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی۔ ہارنے والے رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے مطالبہ کیا کہ اقتدار میں انہیں شامل کیا جائے ورنہ اگر مغربی پاکستان سے کوئی نمایندہ ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں گیا تو بھٹو صاحب اُس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ 

انہی دنوں پنجابی فلم "مستانہ ماہی" ریلیز ہوئی۔ فلمساز وحید مراد تھے۔ مصنف حزین قادری تھے۔ فلم مقبول ہوئی۔ 

اُس زمانے میں فلموں میں سیاسی تبصرے کرنا بہت مشکل تھا۔ سینسر پوری فلم پر پابندی لگا سکتا تھا۔ مشرقی پاکستان کا مسئلہ تو اِتنا نازک تھا کہ جیل جانے کی نوبت بھی آ سکتی تھی۔ 

ان پابندیوں کو ذہن میں رکھ کر مندرجہ ذیل ٹکڑا ملاحظہ کیجیے۔ یہ فلم کا ابتدائی حصہ ہے۔ ایک عورت اپنے گاوں آئی ہے۔ بدمعاش نے اُسے روک لیا ہے۔ شوہر سے مطالبہ کیا ہے کہ دو ہزار روپے ادا کرے، تب بیوی کو واپس آنے دیا جائے گا۔

یہ بدمعاش کون ہے؟ گُرگا کہتا ہے، "آج آپ کا موڈ کچھ فارن کنٹری [بیرونی ملک] جیسا لگتا ہے۔" ہیرو اپنے گاوں کے لوگوں سے شکایت کرتا ہے کہ شریفوں کے گھروں کے فیصلے بدمعاش کی بیٹھک میں کیوں پہنچ گئے ہیں، آپ لوگ مل کر خود ہی کیوں نہیں فیصلے کرتے۔

بدمعاش کہتا ہے، میں دیکھوں گا تم لوگ اپنے فیصلے خود کس طرح کرتے ہو۔

کہیں یہ بدمعاش کوئی فارن کنٹری ہی تو نہیں جو نہیں چاہتا تھا کہ ہم اپنے فیصلے 
خود کریں؟ ویڈیو دیکھیے اور فیصلہ کیجیے۔

Tuesday, 6 December 2011

واسوخت اور شکوہ

 شیخ عبدالقادر جنہوں نے بانگِ درا کا دیباچہ لکھا، انہوں نے اپنے ایک مضمون میں علامہ اقبال کی نظم 'شکوہ' اور میر تقی میر کی واسوخت کی باہمی مماثلت پر زور دیا ہے۔ میں نے اپنی کتاب اقبال: تشکیلی دَور میں نظم 'شکوہ' کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس بات کو ذہن میں رکھا۔ 

واسوخت نظم کی وہ قسم تھی جس میں محبوب سے شکایت کی جاتی تھی۔ میر تقی میر کی کلیات میں چار واسوختیں ہیں۔ ان چاروں کا مرکزی خیال یہی ہے کہ میر تقی میر اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ ہم نے ہی تمہاری نازبرداری کر کے تمہیں اتنا معتبر کر دیا کہ ہر شخص تمہاری طرف مائل ہونے لگا۔ اب تم غیروں کو ترجیح دینے لگے ہو اور ہم سے بے رُخی اختیار کی ہے تو ہم بھی کسی اور پر مہربان ہو کر اُسے تم سے زیادہ حسین و جمیل بنا دیں گے۔ لیکن اگر اب بھی مہربان ہو جاو تو ہم آج بھی وہی تمہارے دلدادہ ہیں۔

ظاہر ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ محبوب فارسی زبان بھی ہو سکتی ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف خود فارسی زبان و ادب میں دلچسپی لی تھی بلکہ ایران کے ٹھکرائے ہوئے شاعروں عرفی، ظہوری وغیرہ کو سرآنکھوں ہر بٹھایا تھا جس کے بارے میں علامہ اقبال نے بعد میں کہا

ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

میر تقی میر دہلی کے اُن اولین شعرا میں سے ہیں جنہوں نے فارسی میں شعر کہنا چھوڑ کر اُردو شاعری کو معتبر بنایا۔ اس لحاظ سے میر کی واسوخت کا یہ مفہوم لیا جا سکتا ہے۔ 

اِس کے علاوہ دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محبوب وہ بین الاقوامی مسلمان برادری ہے جس کے ہاتھوں برصغیر کے مسلمانوں نے زِک اٹھائی تھی۔

میر کا مطلب جو بھی ہو لیکن محبوب سے جس طرح انہوں نے شکایت کی بالکل وہی انداز علامہ اقبال نے اپنی نظم 'شکوہ' میں اللہ تعالی سے شکایت کرتے ہوئے اختیار کیا۔

میر کی واسخت کے کئی مصرعے بلکہ پورے بند ایسے ہیں جن کی بازگشت 'شکوہ'  میں صاف سنائی دیتی ہے، مثلاً میر کہتے ہیں

میں بھی ناچار ہوں اب منہ زباں رہتی نہیں

علامہ اقبال کی شکوہ کا پہلا بند ذہن میں لایے جس میں وہ کہتے ہیں

ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو مجبور ہیں ہم

اسی طرح 'شکوہ' کا وہ مشہور بند ذہن میں رکھیے کہ

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر
خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر
تجکو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟
قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

اب میر کی واسخت کا بند ملاحظہ ہو

پیشتر ہم سے کوئی تیرا طلبگار نہ تھا
ایک بھی نرگسِ بیمار کا بیمار نہ تھا
جنس اچھی تھی تری، لیک خریدار نہ تھا
ہم سِوا کوئی ترا رونقِ بازار نہ تھا
کتنے سودائی جو تھے دل نہ لگا سکتے تھے
آنکھیں یوں موند کے وے جی نہ جلا سکتے تھے


اسی بند پر غور کیجیے تو شکوہ کے بعض اور مصرعے بھی ذہن میں آ جائیں گے۔ کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی۔ ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ


شیخ عبدالقادر نے اپنے مضمون میں کئی مماثلتیں بیان کی ہیں۔ میں اِن دنوں انگلستان میں ہوں اِس لیے وہ مضمون پیش نہیں کر سکتا۔ پھر کبھی سہی۔

Monday, 5 December 2011

امام حسین

علامہ اقبال نے 'رموزِ بیخودی' میں بتایا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت  کا مقاصد دنیا میں اُخوت، مساوات اور آزادی کا فروغ تھا۔ ان تینوں قدروں کے بارے میں اسلامی تصور کو علامہ نے ایک ایک تاریخی حکایت سے واضح کیا ہے۔ آزادی کے تصور کی وضاحت کے لیے کربلا کا واقعہ بیان کیا ہے۔ اس باب کا ترجمہ درجِ ذیل ہے۔ 

اِسلامی آزادی اور حادثہ ء کربلا کے راز کے بارے میں

جس کسی نے بھی ھُوَالمَوجُود کے ساتھ پیمان باندھا اُس کی گردن ہر معبود کے طوق سے آزاد ہو گئی۔
مومن عشق سے ہے اور عشق مومن سے ہے۔ ہمارا ناممکن عشق کے لیے ممکن ہے۔ 
عقل سفاک ہے اور عشق اُس سے بھی زیادہ سفاک ہے۔ زیادہ پاک، زیادہ چالاک اور زیادہ بیباک ہے۔
عقل اسباب اور وجوہات کے چکر میں پڑی ہوئی ہے ۔ عشق میدانِ عمل کا کھلاڑی ہے۔
عشق اپنے شکار کو زورِ بازو سے پکڑ لیتا ہے ۔ عقل مکار ہے اور جال پھینکتی ہے۔ 
عقل کا کام نااُمیدی اور شک سے نکلتا ہے۔ عشق کے لیے عزم اور یقین ناگزیر ہیں۔ 
وہ ویران کرنے کے لیے تعمیر کرتی ہے۔ یہ تعمیر کرنے کے لیے ویران کرتا ہے۔ 
عقل دنیا میں ہوا کی طرح عام ہے۔ عشق کمیاب اور مہنگا ہے۔
عقل کیسے اور کتنے کی بنیاد پر قائم ہے۔ عشق کے جسم پر کیسے اور کتنے کا لباس نہیں ٹھہرتا۔ 
عقل کہتی ہے اپنے آپ کو پیش کرو۔ عشق کہتا ہے اپنا امتحان لو۔
عقل اکتسابی ہے اس لیے غیر سے آشنا ہے۔ عشق خدا کی دین ہے اور اپنے آپ سے کام رکھتا ہے۔ 
 عقل کہتی ہے خوش رہو، آباد رہو۔ عشق کہتا کہ بندگی اختیار کرو تاکہ آزاد ہو جاو۔ 
عشق کی روح کا آرام آزادی میں ہے۔ آزادی اُس کی اونٹنی کی ساربان ہے۔

کیا تم نے سُنا کہ جنگ کے وقت عشق نے ہوس پیشہ عقل کے ساتھ کیا کیا؟
وہ عاشقوں کے امام، جنابِ بتولؓ کے لختِ جگر، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں آزادی کا درخت-
اللہ کی شان دیکھو کہ باپ بسم اللہ کی ب اور بیٹا ذبحِ عظیم والی آیت کی تفسیر ہے
سب سے بہتر ملت کے اُس شہزادے کے لیے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاندھا سواری کا نعم البدل بن گیا۔ 
غیرتمند عشق اُس کے لہو سے سرخ ہے۔ اُس کے مضمون سے اِس مصرع کی شوخی ہے۔
وہ عالی مرتبت ہستی اُمت میں ایسے ہے جیسے اُم الکتاب میں قل ھو اللہ احد!
موسیٰ اور فرعون، شبیر اور یزید دو قوتیں ہیں جو زندگی سے پیدا ہوتی ہیں۔ 
حق شبیر کی قوت سے زندہ ہے۔ باطل کا انجام ناکامی کی موت کا داغ ہے۔ 
جب خلافت نے قرآن سے رشتہ توڑ لیا تو آزادی کے منہ میں زہر ڈل گیا۔ 
تب خیرُ الاُمم کا وہ جلوہ آرا کعبہ کے بادل کی طرح اپنے دامن میں مینہ سمیٹ کر اُٹھا۔
کربلا کی زمین پر برسا اور گزر گیا۔ ویرانوں میں لالے کے پھول اُگائے اور گزر گیا۔ 
قیامت تک کے لیے استبداد کا خاتمہ کر گیا۔ اُس کے لہو کی موج نے باغ کھِلا دیا۔
حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹ گیا اور یوں لا الٰہ کی بنیاد مضبوط کر دی۔ 
اگر آپؓ کا مدّعا سلطنت ہوتی تو آپ کبھی ایسے سازو سامان کے ساتھ سفر نہ کرتے،
آپؓ کے دشمن صحرا کی ریت کے ذروں کی طرح لاتعداد اور آپ کے ساتھی ”یزداں“ کے لفظ کے ہم عدد یعنی صرف بہتّر۔ 
آپؓ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا راز تھے یعنی آپ اُس اجمال کی تفصیل تھے۔
آپؓ کا عزم کوہساروں کی طرح ڈٹا ہوا، ثابت قدم، چٹیل اور کامیاب تھا۔ 
تلوار صرف دین کی عزت کے لیے ہے ۔ اُس کا مقصد قانون کی حفاظت کے سوا کچھ اور نہیں۔
مسلمان اللہ کے سوا کسی کا غلام نہیں ہے۔ فرعون کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ 
آپؓ کے لہو نے اِس راز کی تفسیر بیان کر دی۔ سوئی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا۔ 
جب آپؓ نے ”لا“ کی تلوار میان سے نکالی تو باطل کے سرپرستوں کی رگوں سے لہو کھینچ لیا۔
اِلا" کا نقش صحرا پر لکھ دیا۔ وہ ہماری آزادی کے عنوان کی سطر بن گئی۔" 
 ہم نے قرآن کے چُھپے ہوئے معنی حسینؓ سے سیکھے ہیں۔ آپؓ کی آگ سے شعلے اکٹھے کیے ہیں۔ 
شام کی شوکت اور بغداد کی شان رخصت ہو گئی۔ غرناطہ کی سطوت بھی یاد سے محو ہو گئی۔ 
تب بھی ہمارے ساز کے تار آج تک آپؓہی کے مضراب سے ہل رہے ہیں۔ آپ ہی کی تکبیر سے آج تک ہمارے ایمان تازہ ہیں۔ 
اے صبا! اے دُور پڑے ہوو ں کی قاصد! ہمارے آنسو لے جا کر اُن کی خاکِ پاک پر 
برسا دے۔


رموز بیخودی از علامہ اقبال۔ ترجمہ خرم علی شفیق 

Saturday, 3 December 2011

میر کے دین و مذہب کو

میر تقی میر کا غم انفرادی اور ذاتی تھا
یا پورے مسلمان معاشرے کے غم
انہوں نے اکٹھے کیے تھے؟
ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
میر تقی میر اور مرزا غالب کے یہاں عشق و عاشقی اور رونے دھونے کے سِوا کیا رکھا ہے؟ آج یی غلط فہمی دُور کیجیے۔ 

جب ایک نئی نظریاتی مملکت وجود میں آتی ہے تو اُسے اپنے تمام علوم کو اپنے نظریے کی روشنی میں از سرِ نَو دیکھنا پڑتا ہے۔ کمیونسٹ ملکوں نے تو آسمانی صحیفوں کی تفسیر بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے دائرے میں کر کے رکھ دی تھی۔ 


بھارت نے بھی میر اور غالب وغیرہ کو اُس ہندی نیشنلزم کی روشنی میں دیکھا ہے جو 1885میں کانگریس کے قیام سے پہلے پورے ہندوستان میں کہیں موجود نہ تھا۔ مگر افسوس کہ پاکستانی دانشور اپنے فرض سے غافل رہے۔ 


پاکستان، قوم سے محبت کے نظریے پر قائم ہوا چنانچہ پاکستان کی ضرورت ہے کہ تمام بڑے شاعروں کی شاعری کو اِس معیار پر جانچا جائے کہ اگر اُن کے اشعار میں محبوب کی جگہ قوم کو رَکھ دیا جائے تو کوئی خاص معانی نکلتے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں نکلتے تو وہ شاعر ہمارے کام کا نہیں ہے۔ اگر نکلتے ہیں تو کام کا ہے۔

میر تقی میر اٹھارہویں صدی کی دہلی میں رہتے تھے۔ صدیوں سے یہاں فارسی بولنے کا رواج تھا۔ ہمارے دل و دماغ میں ایران ہر طرح کے حسن و نزاکت کی آماجگاہ تھا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ ایرانی شہنشاہ نادر شاہ کے سپاہی دہلی میں قتل عام کرنے لگے۔ شرفا کی عزتیں برباد ہو گئیں۔ بازاروں میں لاشوں کے انبار لگ گئے۔ یہی سب کچھ بعد میں نادر شاہ کے جانشین احمد شاہ ابدالی کے سپاہیوں نے بھی کیا [نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی دونوں کو اُن کے بعض اچھے کارناموں کی وجہ سے علامہ اقبال نے جنت الفردوس میں دکھایا ہے مگر وہ ایک علیحدہ بات ہے جس پر کبھی اور عرض کروں گا]۔ 

میر تقی میر کے دل و دماغ میں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوا: میں ایک ہندی مسلمان ہوں تو میرا باقی اُمتِ مسلمہ سے کیا رشتہ ہے؟

میر نے بیہودہ اور فضول اشعار بھی لکھے ہوں مگر جب وہ اپنے وجود کی گہرائی میں ڈوبتے ہیں تو اُن کا وجود ہندوستان [اور آج کے پاکستان] کے مسلمانوں کا نمایندہ بن جاتا ہے۔ محبوب وہ بین الاقوامی مسلمان برادری جو کل تک ہمیں سر 
آنکھوں پر بٹھاتی تھی مگر آج گھاس نہیں ڈالتی، ہم پر ظلم کرتی ہے۔

دکھائی دیے یوں کہ بیخود کیا
ہمیں آپ سے بھی جُدا کر چلے

یہاں "آپ"سے مراد "اپنے آپ"ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ میر کہیں بیٹھ کر دوقومی نظریے کا درس دیا کرتے تھے۔ بات یہ ہے کہ وہ جس معاشرے کا حصہ تھے وہ پوری دنیا کی مسلمان برادری سے کچھ اِسی طرح جُڑا ہوا تھا کہ اُس معاشرے کے ایک حساس فرد کے ضمیر کی تہہ میں اِس رشتے کا عکس دکھائی دینا لازمی بات تھی۔ 

میر کی اہمیت یہ ہے کہ اگر ہم اُن کے ضمیر میں جھانک کر برصغیر کے مسلمان معاشرے کا باقی دنیا کے مسلمانوں یعنی اپنے محبوب کے ساتھ رشتہ تلاش کریں تو وہ رشتہ ہمیں اِس سوال کی صورت میں ملتا ہے: کیا ہم برِ صغیر کے مسلمان بین الاقوامی مسلمان برادری سے رشتہ توڑ کر ہندی قومیت اپنا لیں؟

میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو اُن نے تو
قشقہ کھینچا، دَیر میں بیٹھا، کب کا تَرک اسلام کیا

یہ شعر ذرا غور سے پڑھیے، اسلام کی دولت ہاتھ سے جانے کا افسوس اور درد جس طرح اِس شعر میں جھلکتا ہے وہ صرف محسوس کرنے کی چیز ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہی سوال ڈیڑھ دو سو برس بعد برصغیر کے تمام مسلمانوں کے سامنے آیا اور اُنہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں ہم اپنی اسلامی قومیت پر جان، مال، عزت ناموس سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ واقعہ کہ کروڑوں مسلمانوں نے اسلامی قومیت پر سب کچھ قربان کر دیا بذاتِ خود انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعات میں سے ہے۔ 

مغربی محققین تو یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مسلمان پاگل ہو گئے تھے اور بھارتی مورخ بھی یہی دُہرا دیتے ہیں لیکن اگر ہم پاگل ہو گئے تھے تب بھی اِتنے بڑے پاگل دس بیس برسوں میں نہیں بنتے۔ کم سے کم دو تین سو برس پیچھے سے وجوہات تلاش کرنی پڑیں گی۔ ادب، فن، جذبات، محسوسات، ذہنی رویے اور دل کی دھڑکنیں آخر کس کس طرح پروان چڑھتے رہے تھے کہ اِتنی بڑی دیوانگی ہم سے سرزد ہوئی جس پر ہمیں دونوں جہانوں میں فخر ہو سکے۔  


زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

تب شاید ہمیں معلوم ہو کہ میر تقی میر نے محسوس کر لیا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو نشہ اِسی اسلامی قومیت کا ہے اور یہ نشہ اِتنا زیادہ ہے کہ اب اس میں اضافے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، اب کام بن چُکا ہے۔


آج بھی پاکستانی مسلمان شاید دنیا کا آخری مسلمان ہے جو علاقائی وطنیت پر فِدا ہونے کی بجائے ملتِ اسلامیہ کا روگ سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ ایرانی ہمیں گھاس نہیں ڈالتا، افغانی ہمارا نام آتے ہی گالیاں بکنا شروع کر دیتا ہے، عرب ہمیں حقیر سمجھتا ہے اور افریقی ہمیں غیر کہتا ہے مگر ہم ہیں کہ پھر بھی اسلامی وحدت کے نام پر ان میں سے کسی کے لیے بھی گھربار دوبارہ لٹانے پر تیار ہیں۔ اسلامی قومیت کو ایک نشہ سمجھ لیا جائے تو ہر پاکستانی دنیائے اسلام سے آج بھی کہہ سکتا ہے کہ

یارو مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں
اب جام دو تو خالی ہی دو میں نشے میں ہوں


اگر آپ اب بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ کیا میر کی شاعری میں واقعی اِتنی توانائی ہو سکتی ہے تو جواب یہی ہے کہ علامہ اقبال کی نظم "شکوہ" بھی میر ہی کی ایک مشہور نظم سے ماخوذ ہے۔ 


یہ بات علامہ کے قریبی دوست شیخ عبدالقادر نے ایک مضمون میں وضاحت کے ساتھ بیان کی۔ وہی شیخ عبدالقادر جنہوں نے بانگِ درا کا دیباچہ لکھا تھا۔ اب پہلے میر کی وہ نظم تلاش کیجیے، پھر بات آگے بڑھے گی۔ 


مگر آپ کہاں تلاش کریں گے، میں ہی اگلی پوسٹ میں بتا دوں گا۔

Wednesday, 30 November 2011

جستجو ٹی وی

حسین حقانی کا استعفیٰ

 امریکہ میں ہمارے سفیر نے جن حالات میں استعفیٰ دیا اُس پر مجھے شبن یاد آیا۔ سوچا کہ بلاگ پر لکھوں مگر باز رہا کہ بدشگونی نہ ہو جائے۔ وہ خودبخود ہو گئی۔ اس لیے اب تفصیل حاضر ہے۔

۔شبن فلم ارمان میں ایک کردار ہے۔ گھر میں ملازم ہے۔ اُس کا تکیہ کلام ہے، "جھوٹ بولت ہیں تو بیوقوف کہلاوَت ہیں۔ سچ بولت ہیں تو مار کھاوَت ہیں۔ بس ہو گیا فیصلہ: ہم ناہی کریں گے نوکری۔" [جھوٹ بولتے ہیں تو بیوقوف کہلاتے ہیں۔ سچ بولتے ہیں تو مار کھاتے ہیں۔ بس ہو گیا فیصلہ: ہم نہیں کریں گے نوکری]۔

فلم کے ساتویں حصے میں یوں ہوتا ہے کہ میاں شبن جس گھر میں کام کرتے ہیں وہاں ایک غلط قسم کا خط پہنچاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔ 

"کم بخت نمک حرام تو یہاں قاصد کا کام کب سے کر رہا ہے؟"

"ہم کو مارَت کاہے ہو سرکار۔۔۔"

سفیر صاحب کے استعفے سے پہلے جو واقعات پیش آئے اُن کے بارے میں پڑھتے ہوئے مجھے یہ مکالمہ بیساختہ یاد آیا۔ رہا بدشگونی کا معاملہ تو فلم میں اِس منظر کے کچھ ہی دیر بعد وہ شخص جس نے خط بھیجا تھا، گھر میں گُھس کر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ فلم کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن یہاں معاملہ دو ممالک کا تھا لہِٰذا ایسی منحوس بات لکھنا مجھے کچھ اچھا نہ لگا۔ 

دو چار دنوں میں وہ منحوس بات ہو ہی گئی۔ امریکی افواج نے پاکستانی سپاہیوں پر حملہ بھی کر دیا۔

خدا کرے کہ باقی سب خیریت رہے۔ بہرحال اب آپ فلم کے دونوں مناظر کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔ پہلے وہ خط پکڑے جانا والا واقعہ ملاحظہ فرمایے۔ اگر آپ تفریح کے مُوڈ میں ہوں تو شبن کو سفیر، ناصر یعنی وحید مراد کو پاکستانی عوام اور خاتونِ خانہ کو اپنی حکومت بھی سمجھ سکتے ہیں۔  


۔اب ہیرو کے گھر میں ولن کے حملہ آور ہونے کا منظر دیکھیے۔



پچھلی چند پوسٹس کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گئی تھیں لہٰذا آج کچھ اور سہی۔ پھر بھی آپ مجھ سے علامہ اقبال کا کوئی شعر سننے ہی پر مصر ہوں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ 
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

Sunday, 27 November 2011

اُردو ادب کے عناصرِ خمسہ

کالجوں میں ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ اُردو ادب کے پانچ عناصرِ خمسہ ہیں: سر سید احمد خاں، مولانا حالی، مولانا شبلی نعمانی، مولانا محمد حسین آزاد اور ڈپٹی نذیر احمد۔ کیا یہ بات درست ہے؟

اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اِن پانچوں بزرگوں نے جدید اُردو ادب کی تعمیر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا مگر اِنہیں جس طرح عناصرِ خمسہ کی ترکیب میں جوڑا جاتا ہے وہ بیسویں صدی کے شروع میں اُس وقت کیا گیا جب اُس وقت کے ادیبوں کی نئی نسل مولانا حالی کے بتائے ہوئے راستے سے ہٹنے لگی تھی۔

مولانا حالی کا بتایا ہوا راستہ یہ تھا کہ ادب کی قدر و قیمت قومی مقاصد کی روشنی میں متعین کی جاتی ہے۔ 

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سر سید، مولانا حالی اور مولانا شبلی نعمانی دوقومی نظریے کے امین تھے۔ انہوں نے ادب کی بنیاد قومی مقاصد پر رکھی۔ اس کے علاوہ ان تینوں بزرگوں کی نمایاں خصوصیت عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھی جس کے بارے میں مزید کچھ عرض کروں گا۔

مولانا محمد حسین آزاد اور ڈپٹی نذیر احمد کا معاملہ کچھ اور تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی خدمات سنہرے لفظوں میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ہمارے طلبہ کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان دونوں نے انگریزی ادب سے انشاپردازی اور ناول کی اصناف کو اُردو میں منتقل کرتے ہوئے بعض ایسی اختراعات کیں جو انگریزی میں موجود نہیں تھیں۔ ان کی وجہ سے اُردو ادب کا دامن زیادہ وسیع ہو گیا جس کا اندازہ ہمیں ابھی تک نہیں ہے۔ 

لیکن یہ دونوں بزرگ قومی محبت کے اُس تصور کے مبلغ نہیں تھے جو بقیہ تین بزرگوں نے پیش کیا تھا۔ شبلی کا ہیرو اورنگزیب تھا، آزاد کا ہیرو اکبرِ اعظم تھا۔ 

مولانا حالی نے شیخ سعدی شیرازی کی سوانح لکھی اور اُنہیں اپنا پیر و مرشد قرار دیا، اِسی طرح شبلی نعمانی نے سوانح مولانا روم لکھی۔ مگر ڈپٹی نذیر احمد نے شیخ سعدی کی گلستان پر اعتراض کیا کہ اس کے بعض حصے فحش ہیں اس لیے یہ کتاب طلبہ کو پڑھائے جانے کے لائق نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ پھر مولانا روم کی مثنوی کے بارے میں بھی ان کی یہی رائے رہی ہو گی۔

چنانچہ یہ ظاہر ہے کہ ان بزرگوں کے درمیان اس بات پر کچھ اختلاف ضرور تھا کہ ادب کے معاملے میں قوم کو کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ آخر میں قوم نے پانچوں بزرگوں کو عزت احترام کا مقام دیا مگر رہنمائی صرف سر سید، حالی اور شبلی کی قبول کی جبکہ آزاد اور نذیر احمد کے مشورے کو قوم نے قبول نہ کیا۔ 

جہاں تک عشق رسول کا معاملہ ہے ہمارے ادب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ کہ 1867میں سر سید احمد خاں نے جب خطبات احمدیہ لکھنے کا ارادہ کیا وہاں سے لے کر 1947تک پورے اسی برس ہمارے ادب پر ایسا دَور رہا جب عشق رسول کے سوا ہمارے پاس کوئی اور موضوع تھا ہی نہیں۔ سر سید کی سب سے اہم تصنیف کون سی ہے؟ خطباتِ احمدیہ۔ مولانا حالی کی سب سے مشہور نظم کون سی ہے؟ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا۔ مولانا شبلی کا سب سے بڑا کارنامہ کیا ہے؟ سیرۃ النبی۔ علامہ اقبال کی شاعری میں کون سا جذبہ سب سے زیادہ نمایاں ہے؟ عشق رسول۔

اُس زمانے کے بعض بزرگوں کی روایات ہم تک پہنچی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں بازار حُسن میں بھی مولانا حالی کی یہ نعت گائی جاتی تھی: وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا۔ یہ طاقت تھی اُس ادب کی اور یوں اُس نے معاشرے پر سحر قائم کیا تھا کہ مسجد سے لے کر گناہوں کے محلے تک کسی کو نہیں چھوڑا تھا۔

صوفیوں میں ایک مقولہ ہے کہ اگر کوئی مرید چالیس دن تک اپنے پِیر و مرشد کا
 تصور کرے تو اُسے مستقبل کی باتیں بھی معلوم ہو جاتی ہیں، غیب کے بعض اسرار خدا کی مرضی سے اُس پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ بات درست ہے یا نہیں لیکن میں اکثر یہ ضرور سوچتا ہوں کہ جس قوم نے اَسی برس تک سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں ڈوبنے ہی کو اپنا علم، ادب، تفریح اور سب کچھ قرار دیا ہو اُس کا مستقبل شاید خدا نے کچھ محفوظ کر دیا ہو۔  

خیر وہ ایک الگ بات ہے۔ اب آپ ویڈیو دیکھیے: وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے 
والا۔

Saturday, 26 November 2011

ملت کا پاسباں

ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح
علامہ اقبال کی شاعری جس مقام پر پہنچ کر ختم ہوئی وہ اُس منزل کا انتظار تھا جہاں قوم ایک روح کی طرح متحد ہو کر آزاد اسلامی ریاست کے لیے جدوجہد کرے۔ یہ منزل مارچ ۱۹۴۰ء میں آئی جب لاہور میں قراردادِ پاکستان پیش ہوئی۔ مسلم لیگ کے اس تاریخی اجلاس میں ایک نظم پڑھی گئی جسے علامہ اقبال کے بعد ہماری شاعری کا اگلا موڑ سمجھنا چاہیے: ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح۔

شاعر کا نام میاں بشیر احمد تھا۔ برسوں پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تاریخ میں  ڈگری لے کر اور لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کر کے وطن واپس آئے تھے اور ۱۹۱۸ میں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں اپنے آپ کو قوم کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسلامیہ کالج میں پروفیسری شروع کی۔ 

ان کے والد میاں شاہ دین ہمایوں لاہور کی ممتاز سماجی اور ادبی شخصیت تھے۔ علامہ اقبال کے ادبی سرپرستوں میں سے تھے۔ فوت ہوئے تو میاں بشیر نے ان کی یاد میں رسالہ ہمایوں نکالا جو بہت جلد ایک انتہائی اہم ادبی اور تفریحی رسالہ بن گیا۔ اس کے پہلے شمارے کے لیے نظم کی درخواست لے کر علامہ اقبال کے پاس گئے تو علامہ نے شاہ دین ہمایوں کی یاد میں وہ نظم لکھی جو بانگِ درا میں 'ہمایوں' کے نام سے شامل ہے اور جس کا آخری شعر بیحد مشہور ہے۔۔۔

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوامِ زندگی

تحریک پاکستان شروع ہوئی تو میاں بشیر احمد نے طلبہ کو مطالبہء پاکستان کے  لیے تیار کرنے میں دوسروں سے کچھ زیادہ ہی حصہ لیا۔ قائد اعظم بھی قدر کرتے تھے۔

کیا ایسا شخص اِس قابل بھی نہیں ہے کہ ہم اُسے شاعروں میں شمار کریں اور اُس کی شاعری پر سنجیدگی سے بات کریں؟ بدقسمتی سے ہمارے ادب کے ٹھیکیداروں نے یہی رویہ اپنایا ہے۔ شاید اس لیے کہ اگر علامہ اقبال کے بعد ہم میاں بشیر احمد پر پہنچ جائیں تو ہمارے ادب کی گاڑی کے پٹری سے اُترنے کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے بڑے ادیبوں کی پوری کوشش ہی یہی رہی ہے کہ ادب کی گاڑی کو ہائی جیک کر کے ماسکو، پیرس یا کہیں اور لے جائیں۔

میاں بشیر احمد کی نظم کی پہلی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے جن چیزوں کا تذکرہ محض تصور کے طور پر کیا تھا یا انہیں مستقبل میں حاصل کرنے کی امید دلائی تھی، یہ نظم اعلان کرتی تھی کہ وہ چیزیں اب حقیقت کے روپ میں ہمارے سامنے آ گئی ہیں۔ قوم کی روح، تقدیر کی اذاں، کارواں کا دوبارہ روانہ ہونا، وغیرہ وغیرہ یہ سب استعارے علامہ کی شاعری سے ماخوذ تھے جنہیں استعمال کرتے ہوئے میاں بشیر نے بتا دیا کہ اب ہمیں ان اشاروں کے لیے مستقبل کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں، صرف اسٹیج کی طرف دیکھنا کافی ہے جہاں محمد علی جناح مسلمانوں کے قائدِ اعظم کے روپ میں بیٹھے ہیں۔

دوسری خصوصیت یہ ہے کہ الفاظ اگرچہ وہی ہیں جو علامہ کی شاعری میں اکثر استعمال ہوئے اور عموماً فارسی آمیز ہیں، مگر میاں بشیر کی نظم میں وہ ذرا آسان ہو جاتے ہیں۔ گویا یہ نظم ایک رابطہ ہے جس کے ذریعے ہم نئے زمانے کی آسان اُردو سے شروع کر کے علامہ اقبال کی اُردو تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ رابطہ ٹوٹ جانے سے علامہ اقبال کے زمانے کی اُردو سمجھ میں آنا مشکل ہو جاتی ہے۔

تیسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ نظم مسلمان عوام میں بالکل اُسی طرح مقبول ہوئی جس طرح علامہ اقبال کی نظمیں مقبول ہوتی تھیں۔


ہم نے اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں جدید اُردو ادب اور جدید اُردو شاعری کےہ نام پر جو کچھ پڑھا ہے، جھک ماری ہے۔ آئیے آج پہلا سبق لیں: جدید اُردو شاعری یعنی علامہ اقبال کے بعد کی شاعری کا آغاز اسی نظم سے ہوتا ہے جو میاں بشیر احمد نے لکھی اور ۲۲ مارچ کو یعنی قرارداد پاکستان سے ایک روز قبل تاریخی جلسے میں پڑھی گئی اور جو بچپن سے ہمیں پسند ہے۔ 

کیا آپ کسی نظم کو صرف اِس لیے عظیم شاہکار تسلیم کرنے سے انکار کر دیں گے کہ وہ آپ کو پسند ہے؟ مجھے شبہ ہے کہ آپ نے اب تک شائد یہی کیا ہے۔ اب مت کیجیے۔ 


کسی نظم کے مقام اور مرتبے کا اندازہ اُس زمانے کی دوسری نظموں سے موازنہ کر کے بھی لگایا جاتا ہے۔ اب اندازہ لگائیے کہ جس زمانے میں یہ نظم پیش کی گئی قریباً اُسی زمانے میں فیض احمد فیض کی نظم "مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ" سامنے آئی تھی۔ کیا ہم اُس شخص کو ذہنی بیمار اور روحانی مریض نہیں کہیں گے جس کے خیال میں "مجھ سے پہلی سی محبت" تو ایک عظیم نظم ہو اور "ملت کا پاسباں" سرے سے ادب میں شمار ہونے کے قابل ہی نہ ہو؟


ہمارے پروفیسروں، دانشوروں اور نقادوں نے عموماً یہی کیا ہے۔ اُن کے دماغ خراب ہیں، خدا کے لیے اُن کے پیچھے چلنا چھوڑ دیجیے۔ وہ آپ کو صرف غلامی کے جہنم میں لے جائیں گے کیونکہ انہیں خود وہیں جانا ہے۔ آزادی انہیں راس نہیں آئی۔ وہ آپ کو آپ کے ادب سے، آپ کے ورثے سے محروم کر رہے ہیں۔


یہ آپ کا ادب ہے، آپ کا ورثہ ہے۔ کیا کسی کو حق ہونا چاہیے کہ آپ کو اِس سے محروم کر دے؟ اپنے ورثے کی حفاظت آپ نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ خدا کے لیے اپنے دل و دماغ سے فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیے۔ اُس بیماری سے نجات پائیے جو تعلیم کے زہر نے ہم سب میں پیدا کی ہے۔


ویڈیو دیکھیے اور کمنٹ کے تحت صرف اتنا لکھ دیجیے کہ کیا آپ کے خیال میں یہ ایک عظیم نظم ہے؟ [باقی آیندہ]۔


ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح

صد شکر پھر ہے گرمِ سفر اپنا کارواں
اور میرِ کارواں ہے محمد علی جناح

تصویرِ عزم، جانِ وفا، روحِ حریت
ہے کون؟ بے گماں ہے محمد علی جناح

لگتا ہے ٹھیک جا کے نشانے پہ اُس کا تیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناح

ملت ہوئی ہے زندہ پھر اُس کی پکار سے
تقدیر کی اذاں ہے محمد علی جناح 

Tuesday, 22 November 2011

ستارہ یا سُورج؟

مصنف، فلمساز اور اداکار وحید مراد
1938-1983
ایسی شخصیات کی مقبولیت کا تجزیہ کر کے معاشرہ اپنے بارے میں جان سکتا ہے۔ 

عام طور پر غیرمعمولی مقبولیت کی وجوہات یہ ہوتی ہیں: سیاسی پس منظر، معاشرے کا ماحول، تاریخی روایات، ادبی اور نفسیاتی استعارے، اقدار اور نصب العین وغیرہ۔

وحید مراد کی غیرمعمولی مقبولیت کا زمانہ مارچ 1966 سے شروع ہوتا ہےجب فلم ارمان ریلیز ہوئی جس کی کہانی اُنہوں نے خود لکھی تھی اور فلمساز بھی وہی تھے۔

چند ماہ پہلے 1965کی جنگ میں کامیابی کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کرنے کے بعد قوم کے حوصلے بلند تھے۔ جنگ کے دوران شروع ہونے والا قومی نغموں اور ترانوں کا دَور ابھی ختم نہیں ہوا تھا بلکہ حُبُ الوطنی پر مبنی ادب کی بہار آئی ہوئی تھی۔ 

دوسری طرف تاشقند کے معاہدے میں فوجی حکومت نے جو شرائط قبول کی تھیں اُنہیں عام طور پر بزدلی سے تعبیر کیا جا رہا تھا۔ یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عوام کی اُمنگوں کا زیادہ احترام کرتی ہو۔ 

فلم ارمان میں غیرمحسوس طور پر وہی جذبات موجزن تھے جو قومی نغموں میں استعمال ہوئے تھے، صرف اِس فرق کے ساتھ کہ وہاں محبت کا موضوع وطن تھا اور یہاں محبوب۔ لیکن جو عوام صدیوں سے عشقِ مجازی کی شاعری میں عشقِ حقیقی تلاش کرتے آئے ہوں اُن کے  لیے یہ فرق آخر کتنا اہم ہو سکتا تھا؟ 

یہ اپنی جگہ خود بہت بڑی بات ہے کہ عشقِ مجازی کے لٹریچر میں ایسے جذبات پیش کر دیے جائیں جنہیں آپ وطن سے مخاطب ہو کر کہیں تو آپ کی نظریاتی بنیادوں کی مکمل تشریح بن جائیں۔


دل چاہے تو تجربہ کر لیجیے۔ پاکستان کو مخاطب کر کے مندرجہ ذیل مصرعے پڑھیے اور فیصلہ کیجیے کہ کیا یہ اُس "ارمان"کی مکمل عکاسی نہیں جو پاکستان بنانے والوں کے دلوں میں پاکستان کے لیے تھے؟ 

دیا حوصلہ جس نے جینے کا ہم کو
وہ اِک خوبصورت سا احساس ہو تم
جو مٹتا نہیں دل سے تم وہ یقیں ہو
ہمیشہ جو رہتی ہے وہ آس ہو تم
یہ سوچا ہے ہم نے کہ اب زندگی بھر
تمہاری محبت کو سجدہ کریں گے


فسانہ جو اُلفت کا چھیڑا ہے تم نے
ادھورا نہ رہ جائے یہ سوچ لینا
بچھڑ کے زمانے سے پایا ہے تم کو
کہیں ساتھ تم بھی نہ اب چھوڑ دینا۔۔۔

اسکرین پر وحید مراد کی جو شخصیت اُبھرتی تھی وہ اِس موضوع کے ساتھ انصاف کرتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ انگریزی ادب میں ایم اے کیا تھا۔ مطالعہ بیحد وسیع تھا۔ نہ صرف ارمان بلکہ بعد کی فلموں میں بھی عام طور پر اُن کا کردار ایسے شخص کا ہوتا تھا جو اپنے ماحول سے غیرمطمئن ہو کر کسی بہتر آئیڈیل کی جستحو کرتا ہے مگر معاشرے کی اخلاقی اقدار کا محافظ بھی ہے۔

اِس کے علاوہ ایک خاص بات تھی۔ یہ طے ہے کہ ہیرو کو ہیرو نظر آنے کے لیے خوداعتمادی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ اِس کے لیے عام طور پر اداکار ایک ایسے انداز کا سہارا لیتے ہیں جس میں دوسروں کو اہمیت نہ دینے کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ وہ فریم میں داخل ہی یوں ہوتے ہیں جیسے شیر شاہ سوری ہمایوں سے سلطنت چھیننے آیا ہو۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ یہ شخص نہ کسی کی بات سنے گا نہ سمجھے گا۔ یوں آپ اُس کی برتری تسلیم کر لیتے ہیں۔ وہ ہیرو بن جاتا ہے۔ وحید مراد کا معاملہ برعکس تھا۔

 وحید مراد کے حرکات و سکنات اور لب و لہجے سے ایک عجیب قسم کا اشتیاق ظاہر ہوتا تھا جیسے ہر شخص کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے بیتاب ہیں۔ اِس خواہش میں آپے سے باہر ہوئے جا رہے ہیں کہ جس کے دل میں جو کچھ بھی ہے اُسے محسوس کر لیں۔




یہ انداز صرف وحید مراد ہی کے ساتھ آیا۔ دنیا کے بڑے بڑے سُپراسٹارز سے موازنہ کر لیجیے [اگر آپ فلمیں نہیں دیکھتے تو ٹیلی وژن پر نظر آنے والے کمپئرز یا دانشوروں سے موازنہ کر سکتے ہیں]۔ دلیپ کمار، بریڈ پِٹ، امیتابھ بچن، شاہرُخ خان یا کوئی بھی جسے آپ خواہ وحید مراد سے بڑا اسٹار کہیں یا چھوٹا، وہ اِس بات میں مقابلہ نہیں کر سکتا کہ وحید مراد وہ ہیرو ہے جس کی حرکات و سکنات  یعنی پوری باڈی لینگوئج مخاطب کو اہمیت دلوانے میں صرف ہو جاتی ہے۔ وہ اپنا ہیرو ہونا دوسروں کی اہمیت گھٹانے سے نہیں بلکہ بڑھانے سے ثابت کرتا ہے۔ 

 شائد یہ اِس لیے بھی تھا کہ وحید مراد بعد میں اداکار تھے، پہلے ایک مصنف اور فلمساز تھے جن کے پاس کچھ پختہ افکار تھے، پیغام تھے جنہیں وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتے تھے۔ 




بُدھ کے روز وحید مراد کی برسی ہے۔ اِسی سلسلے میں یہ پوسٹ لکھی لیکن اب سوچ رہا ہوں کہ اِس میں زیادہ تعریف وحید مراد کی ہوئی ہے یا اُس قوم کی جس نے اپنے لیے سپر اسٹار بھی منتخب کیا تو خاصا سُلجھا ہوا۔ پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا۔  

Friday, 18 November 2011

اصلاح کیسے کریں؟

مجھے لگتا ہے کہ ہم سے پہلے کی نسل کے لوگوں میں بھی خامیاں تھیں مگر وہ انہوں نے دُور کر لیں۔ ہم کیسے کریں؟

یہ سوال مجھے کچھ عرصہ پہلے ایک نوجوان طالب علم کی طرف سے ایمیل میں موصول ہوا۔ اُردو بلاگ کی ابتدائی پوسٹس اِسی سوال کا جواب ہیں: تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں اپنے معاشرے کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے بارے میں جانتے ہوں اور معاشرے کی اجتماعی رائے پر عمل درآمد کروانے کے لیے تیار بھی ہوں۔ 

میں سمجھتا ہوں کہ میں جو کچھ بھی کہہ سکتا ہوں وہ اس مختصر سی بات میں آ جاتا ہے۔ باقی محض تشریح ہے، سو وہ بھی پیش کر رہا ہوں۔

اپنے معاشرے کے بارے میں جاننے کی چیزیں پانچ ہیں: تاریخ، ادب، سیاست، مذہب و سائنس اور تعلیم۔ 
  • تاریخ کا مطلب ہے کہ ہماری قوم نے اجتماعی طور پر کون کون سے اہداف مقرر کیے اور انہیں کس طرح حاصل کیا۔
  • ادب اُس چیز کا نام ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جو ہدف قوم نے اپنایا ہے اُس میں کون سے آئیڈیلز یعنی مقاصد چُھپے ہوئے ہیں۔
  • سیاست اُن آئیڈیلز کو عملی جامہ پہناتی ہے جو ہمارے ادب سے برآمد ہوتے ہیں۔
  • مذہب اور سائنس اُس حقیقت کے معانی سمجھاتے ہیں جو مندرجہ بالا عمل سے ہمارے اطراف میں وجود پاتی ہے۔
  • تعلیم ان معانی کو اگلی نسل تک پہنچانے کا نام ہے۔ 

اگر ہم اپنے معاشرے کے بارے میں یہ پانچ چیزیں جانتے ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم معاشرے کو جان گئے۔ ورنہ نہیں جانے۔  

Tuesday, 25 January 2011

The Cinema of Politics

The following is my article published in Dawn Images on Sunday, January 16, 2011.
How did the New Year arrive thirty years ago? It was 1981. The interest-free banking got introduced that day. The new Islamic century had also started a few weeks earlier, and the media was abuzz with relevant content. Since the state-controlled PTV was the only available television channel, the nation had no choice except to watch the faith-strengthening programs – along with some very entertaining ones, such as the hilarious Fifty Fifty (and Show-Sha, the debut stage show of the host Anwar Maqsood, starting a few days after the New Year).

Then, of course, there was form of diversion that would happen when a rented VCR – a prohibited item at that time – was sneaked into a household, and the entire neighborhood might gather around it for watching some illegally imported movie. The pious and the innocent had started turning their backs on the national film industry, in favor of Indian movies.

This winter of our discontent was warmed up a bit by the “summer of ’42”. Nahin Abhi Nahin, directed by the progressive Pakistani filmmaker Nazrul Islam, had been released a few weeks earlier. It had introduced newcomers Faisal Rehman (known by the screen-name “Armaan” at that time), Ayaz and Fauzia Ahmad (known by the screen-name “Aarzoo”). These kids were the talk of the town, and a tie-in advertisement of a certain paan masala had popularized them even among those who had not seen the movie. The movie itself was not perceived to be anything but a coming-of-age comedy at that time, but was it just that? Or did it have some political connotations that were missed by the suspecting censors and may only be discovered in retrospect?

The story begins with the Aligarh syndrome of a poor couple from a village wanting higher education for their son, Armaan (literally meaning aspiration, and apparently an allusion to the 1966 blockbuster movie of that title).

The son grows up, is sent to live in a hostel in the city and accompanies his street-smart roommate Bobby (Ayaz) to a park where the authorities have prohibited the plucking of flowers. “These excessive prohibitions are conspiracy hatched against us by a few fanatics," says Bobby. An old gentleman interrupts him compassionately, "No, my son. This is how we, who are your elders, are offering you guidance." When Armaan takes sides with the old man, Bobby responds by singing a song which, at least in retrospect, can be taken as the most poignant criticism of General Zia's version of "Islamization" to come out during that period: “Kuchh bhi karo yeh rokayn…” (“Whatever we do, they stop us; and object to each and everything; they have got nothing else to do; but they are from a time bygone, and this is a new age, so you better salute it!”). Armaan actually “salutes” the “new age” and is chastised by the memory of a beating from his father (perhaps reminiscent of the famous lashing of the rebels in the earlier days of the martial law regime?).

Armaan wears a burqa while Bobby dons a shirwani and false moustaches so that they may look older and be allowed entry to a theater where the famously tantalizing movie from the Hollywood, Summer of ’42, is being shown “for adults only”. Likewise, the innocent-looking schoolgirl Aarzoo, who develops a liking for Armaan, has very little appetite for the hardcover books handed down to her by her moralizing father, and prefers the thrillers written by James Hadley Chase (the Corgi editions published in those days used to come with notoriously revealing pictures on their covers). In her dream she sings to Armaan, “Bun jao tum filmstar…” (“Become a filmstar…”) but wakes up with a disturbed mind when, in the same dream, she envisions his later years filled with problems stereotypically related with showbiz fame: alcohol, women and loss of true love.

Did these confused fantasies not foreshadow what was actually going to happen soon after the end of the 11-year-long Islamization of General Zia? The schoolgirls of the early 1980s have grown up pretty much the way Aarzoo would have: they are the middle class women of today who patronize Indian soap serials and “permissive” reality shows, while complaining at the same time that the media is corrupting the morals.

Shabnam, the great legend of our silver screen, was presented as herself – in a manner of speaking. As the most popular living legend of our silver screen, she may well deserve to be remembered as the nearest female equivalent of Waheed Murad. In Nahin Abhi Nahin, she is given her own name – “Ms. Shabnam”. Her personal life is depicted, not necessarily as it was in reality, but almost certainly as the cine-goers of the period would have fantasized about it. She is shown to be living independently in a luxury apartment, painting pictures for a living and hanging out in posh restaurants with her female friends. She is easily moved, and has a kind heart, but also possesses a well-developed sense of moral responsibility.

This is the older woman whose gestures of kindness are misinterpreted by Armaan, apparently because the boy’s head is filled with fantasies borrowed from the Hollywood and he cannot help imagining Shabnam as “Dorothy” of Summer of ’42. Armaan’s quest after her – with haunting lyrics from Suroor Barabankvi and music from Robin Ghosh, ‘Saman who khwab sa saman’ – may well mirror the anxieties of the generation growing up under rigid laws and finding its personal space in permissive fantasies. The struggle of Armaan and Bobby to grow up “before their time” (a recurring motif in the film) was remarkably in sync with an era when unrest was boiling up in colleges and universities, mainly over political matters that were not usually seen as the legitimate concerns for students.

Regrettably, just as Armaan fails to realize that Shabnam is not Dorothy, we may have failed to see the difference between our filmmakers and their foreign counterparts. Despite its superb entertainment value and a liberal attitude towards life, Nahin Abhi Nahin is a moral agenda rooted in the vision of the founding fathers of the country. Rather than sounding out of place, Armaan seems to be truly presenting the essence of the whole movie when he speaks his last lines to Aarzoo: “Our elders are right. Flowers that bloom before their time also die premature. I shall eat this fruit but no, not just now (nahin abhi nahin).”

Thursday, 30 December 2010

National anthem: fact and fiction

For some time now, some secularists in Pakistan have been suggesting that (a) Jinnah was in favor of secularism, and therefore (b) he commissioned a Hindu poet to write the national anthem of Pakistan but it was replaced by the present anthem after Jinnah’s death.

Therefore, it is rather serendipitous that two well-researched books should come out at the same time, each addressing a different half of this statement separately (and both having long titles, but that is beside the point):
  • Secular Jinnah and Pakistan: What the Nation Doesn’t Know by the British Pakistani writer Saleena Karim is a 317-page study about whether Quaid-i-Azam Jinnah wanted Pakistan to be a secular state.
  • Pakistan Ka Qaumi Tarana: Kiya Hai Haqeeqat, Kya Hai Fasana by Aqeel Abbas Jafri is a 104-page analytical presentation of archival resources about the national anthem of Pakistan. 
The first book is in English, and the second is in Urdu, and let’s begin with the second. Although he is little known abroad, Jafri ‘s name has become synonymous with archival research in Pakistan. One of his most recent crowning achievements is the Urdu Chronicle of Pakistan, which presents a chronological illustrated history of the country since 1947.

In Qaumi Tarana (allow me to refer to the book by this short title), Jafri shows with conclusive documentary evidence that:
  1. Pakistan did not have a national anthem in the lifetime of Jinnah.
  2. The present national anthem was the first to be officially adopted by the state.
  3. There is no evidence to show that any poem by Jagan Nath Azad was played from radio on 14 or 15 August at all.
Some of the findings of this book were earlier shared by Jafri in his curtain-raiser article in Urdu press (covered here in a previous post, ‘Jafri reveals the truth). The book offers much – much – more: a fantastic trip of time travelling to the early days of Pakistan, and inside the secret vaults of classified information, all in a light and refreshing manner.

I strongly recommend it to everybody. Being a basic document about a key symbol of our sovereignty, i.e. our national anthem, it should be kept in every household (Imagine losing your domicile certificate, passport, identity card and personal documents?). The book is modestly priced at Rs.200, which is roughly the same as a full plate of Biryani plus cold drink (and minus the TIP) – so, please do not “starve” your souls.

Now, very interestingly, while explaining that his purpose is just to keep the record straight, Jafri clarifies in the preface that it would not have been unexpected if the Quaid had actually got the national anthem written by a Hindu poet, but facts are facts and history needs to be respected. In the same vein he admits: “I do not have any doubts about Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah being secular, liberal and enlightened… Since Islam is the very name of tolerance.”

This brings us to the second book, which addresses the question: Did Quaid-i-Azam want Pakistan to be a secular state (and is secularism the same thing as the “tolerance” preached by Islam)? In the next post we shall see what Saleena Karim has to say about this in Secular Jinnah and Pakistan: What the Nation Doesn’t Know.
Next: Secular Jinnah

Sunday, 5 December 2010

From Pakistan, with Love

The following article of mine was published in Dawn, Books & Authors today.
Ibne Safi goes international, again. In a way, he was always international since his books used to be published simultaneously from India and Pakistan. Yet his work was not available in English. Random House, India, has now started publishing Imran Series translated by Bilal Tanweer. Titled The House of Fear, the collected volume containing the first two novels is already out. Blaft Publications is coming up with some novels of Jasoosi Duniya translated by the renowned Shamsur Rehman Faruqui.

The Hindi editions are being published by Harper Collins, India. Unlike the earlier Hindi versions of the 1950s and 60s, the names of the heroes Ahmad Kamal Faridi and Ali Imran have not been changed to Vinod and Rajesh. Perhaps it is the right moment to reconsider how much was lost when the society failed to locate Safi in its literary current in the early years of independence.

He was born Asrar Ahmad in April 1928 in Nara, a small town near Allahabad. One of the earliest influences on him was Talism-i-Hoshruba, the gigantic Urdu classic (currently being translated into English with the first volume already available). The next most important influence was Rider Haggard, whose romances She and The Return of She he read soon after moving to Allahabad for higher education.

When he stared writing fiction and poetry, for a while he followed the literary trends of those days, such as the Progressive Writers’ Movement, but became disillusioned with them sometime around 1942. It seems that he had come to believe that purely speculative theories did not provide a very sound basis for collective development of societies – at least that is the impression one gets from his autobiographical essays such as ‘How Did I Start Writing’ (‘Mien Nay Likhna Kaisay Shuroo Kiya’) and ‘Baqalam Khud’ (In My Own Hand). However, he kept the company of the leading progressive writers of the area as long as he stayed in India, which was till August 1952.

The catastrophic pillage and massacre of 1947 confirmed, at least to him, his doubts about the ability of pure speculation to prevent social tragedies. “I kept thinking and thinking, and arrived at the conclusion that such things will keep happening until the human being learns to respect the law,” he later wrote.

In the late 1951, a comment by someone to the effect that only sexual stuff could sell in Urdu provoked Asrar to launch a movement against the contemporary trends of high literature. He picked up Ironsides’ Lone Hand, a detective story by Victor Gunn and adapted it according to the tastes of the reading public of Urdu, adding some literary flavor of his own and remodeling the two main characters to represent his ideals. Dilair Mujrim, published by Nakhat Publications, Allahabad, and distributed by A.H. Wheeler & Co. in March 1952, sold like hot cake. Asrar Ahmad, now using the penname “Ibne Safi” (“the Son of Safi”, since Safiullah was the name of his father) had proven his point.

He migrated to Pakistan in August the same year and spent the rest of his life in Karachi. By the time he died on July 26, 1980, he had written 246 mystery novels on stock characters Faridi, Hameed and Ali Imran. All except eight adaptations were based on original plots (by his own account), and almost all had been published simultaneously from Allahabad and Karachi, since the author remained equally popular on both sides of the border.

Literary critics labeled him a mere “popular writer” and his fiction as “pulp”. This was to overlook the fact that writers of pulp fiction seldom have explicitly reformist agendas: Ian Fleming once justified the promiscuity of James Bond by saying something to the effect that he was catering to an age where courtship was being replaced with seduction.

Not so with Ibne Safi. He was reinforcing the messages of commonly respected reformers, such as Sir Syed Ahmad Khan, Ali Brothers and Allama Iqbal, while, ironically, the writers of “high literature” were trying to outdo each other in selling sex and sadism. Also, his work touched upon a wider range of contemporary issues – and his literary allusions covered a more diverse range of art, literature and philosophy – than any other writer who ever wrote fiction in Urdu. That does not sound very “pulp” either.

These happen to be a few of the questions brushed under the carpet by the gatekeepers of the literary establishment long ago. More questions can be raised, and they are likely to be raised now that interest in the work of Ibne Safi is about to scale new heights.

Note: Online information about the life and works of Ibne Safi can be found at www.ibnesafi.info and www.wadi-e-urdu.com, both non-profit websites supported by his family, which also maintains a Face Book page at http://www.facebook.com/ibnesafi

Sunday, 28 November 2010

The Parable of the Sea


The following is my article published today as 'Samandar, a Parable?' in Dawn, Images.

On January 6, 1968, the government of President Ayub Khan announced that a conspiracy had been un covered between some personnel from East Pakistan and Indian politicians to overthrow the government in East Pakistan and establish an independent state of Bangladesh. Twelve days later, the popular Bengali politician Sheikh Mujibur Rehman was also implicated (he was already under arrest for almost two years, since he had suggested partial autonomy for East Pakistan in his Six Points given in March 1966).

“The young Bengalis were quieter than usual at the Dacca and Chittagong Clubs,” the American Consulate General in Dhaka wrote secretly to the US Department of State a little later. “Eid was quieter this year. Fear was in the air. Men were afraid to pass more than the barest of greetings. Once argumentative chaps endured the taunts of Punjabi and non-Bengali members.”

Against this backdrop, the film Samandar was released on March 10, 1968. It was produced by Waheed Murad, who also played the lead role and sang an unaccredited song. Shabnam, a successful talent from East Pakistan, appeared here in her first lead role in a West Pakistani production. Could the on-screen alliance between talents from the two wings be a thinly veiled parable about the federation?

There are no conclusive answers but there are some pointers. Director Rafiq Razvi was known to be a patriotic filmmaker: his best-known work was Bedari (1957), a film with explicitly patriotic agenda, whose songs are played as national songs even today ("Ae Quaid-i-Azam tera ehsan hai ehsan", to name just one).

The lyrics of Samandar were written by Sehba Akhtar, who would later write such national songs as "Mein bhi Pakistan hoon", and become known as “the Poet of Pakistan”. The music was composed by Deboo Bhatacharya. Since the two wings of the country were connected by the sea, and not by the land, the title song becomes especially symbolic: "Saathi, tera mera saathi hai lehrata samandar" (Friend, the sea is our common friend).

The story is set in a fishing colony, which could be treated as an analogy of Pakistan. Rajah (Waheed Murad) aspires for nothing except love, while his best friend Jeera (Hanif) aspires to become the next chief of the community but ends up playing into the hands of Jaggu Seth (Rashid), a foreign intruder who wants to monopolise the economy. Rajah is persuaded by the people to contest a boat race through which the next chief would be elected. Rajah wins the race, but hands over the power to his former friend after eliciting from him a promise that he would defend the community against the intruder.

If Jeera is taken as a symbolic representation of the politicians of East Pakistan, Rajah becomes a role model for their counterparts in the western wing of the country. Significantly, his love interest is Noori (Shabnam), the chief’s daughter, whom the custom requires to marry the next chief. Thus being associated with Jeera, she becomes a symbol for the land and culture of East Pakistan. In this capacity, she is balanced by Rajah’s sister Bali (Rozina), who is wooed by Jeera.

The paradox is that Rajah does not want to rule, and yet he wants the hand of Noori, who by custom should only marry the ruler. This is not unlike the challenge that the politicians of West Pakistan faced at that time, probably without grasping it: they were supposed to keep the federation without wanting to rule over it forever.

The film was released at a time when there were rumors about Ayub Khan suffering from ailments. His successor would turn out to be Yahya Khan, whose reputation of heavy drinking would even precede his real procrastination. Consciously or unconsciously, both aspects are reflected in the ailing chief in the movie, who admits, “Old age, sickness and alcohol have rendered me incapable of taking a firm stance (against the enemy).” A community ruled by an inebriated head, threatened by foreign intrusion and divided against itself through mistrust, while fear lurks in the hearts of those whose love is pure — could there be a more candid depiction of Pakistan at that hour of its existential crisis?

Rajah resolves the moral dilemma at the tomb of a local saint where the visitors are dressed to represent diverse ethnicities but the two qawwals singing the traditional Sufi song, "Damadam mast qalandar", wear Jinnah caps. Spiritual ideals translated into collective action might be the solution required for Pakistan, even today.

Carving a unified nation out of a diverse stock is like striving against the forces of nature. The human being seems to be in conflict with nature in every song of the film, until it is announced in the final one that the lamps of the people have outshone the stars, and their garden boasts of a perfume that cannot be produced by spring.

This is the promised goal of Samandar, and the film tells us how to achieve it. Whether those who delivered this message 42 years ago were thinking about the debacle of East Pakistan or not they managed to provide an insight that is as relevant today as it was then.