Pages

Friday, 4 November 2011

تعلیم کا مقصد

یہ گدھا نہیں ہمارا معیارِ تعلیم ہے۔
بلند ہو رہا ہے۔
 ہم اپنا معیارِ تعلیم کس طرح بلند کر رہے ہیں، تصویر ملاحظہ فرمایے۔

گاڑی ہمارا تعلیمی نظامِ ہے، اُس کے آگے جو معزز جانور بندھا ہوا ہے وہ ہمارا معیارِ تعلیم ہے۔ گاڑی میں اِتنے بنڈل رکھ دیے گئے ہیں کہ بیچارہ معیارِ تعلیم  ہوا میں معلق ہو گیا ہے۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، شائد یہ وہاں پہنچ جائے کیونکہ اب اِس کا رُخ آسمانوں کی طرف ہو گیا ہے۔ مگر زمین پر تو دو قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔

تعلیم کو سب اچھا کہتے ہیں مگر کوئی نہیں بتاتا کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے۔ گھسی پٹی باتیں مت کیجیے۔ اچھا انسان وغیرہ بننے کے لیے تعلیم کوئی شرط نہیں۔ تہذیب اور شائستگی میں بھی آج کل تو اَن پڑھ لوگ انگریزی پڑھے ہوئے نوجوانوں سے آگے نظر آتے ہیں۔ دنیاوی کامیابی کی بات بھی مت کیجیے کہ بقول ابن انشا: تعلیم بڑی دولت ہے مگر جس کے پاس تعلیم ہوتی ہے اُس کے پاس دولت کیوں نہیں ہوتی اور جس کے پاس دولت ہوتی ہے اُس کے پاس تعلیم کیوں نہیں ہوتی؟

تعلیم کا صرف ایک ہی مقصد ہو سکتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ اپنے معاشرے کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل ہو سکیں۔ آپ جہاں رہتے ہیں وہاں کے حکمراں بن جائیں۔ 

مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ میں ضرور پہنچیں۔ بلکہ جس شعبے میں بھی ہوں اپنے ملک کو چلانے، اُس کی راہ متعین کرنے اور معاشرے کے بارے میں فیصلے کرنے میں آپ اُتنا ہی حصہ لے رہے ہوں جتنا کہ حکومت۔ بلکہ حکومت کا کام صرف آپ کے فیصلوں کو نافذ کرنا ہو۔  

کیا ہماری تعلیم ہمیں اِس کے لیے تیار کرتی ہے؟ کیا یہ تعلیم ہمیں اِن معانی میں یا کسی بھی معانی میں "حکمرانی" کے قابل بناتی ہے؟

یہ مت کہیے کہ ہمارا معاشرہ ہی ایسا ہے کہ صرف جاہل اور دولتمند منتخب کیے جاتے ہیں۔ محمد علی جناح سے زیادہ ووٹ کس نے حاصل کیے ہوں گے؟ علامہ اقبال بھی اسمبلی کا الیکشن لڑے اور کامیاب ہوئے۔ ہمارے پہلے وزیراعظم ایک نواب کے بیٹے سہی مگر وزیراعظم بننے تک اُن کے پاس شاید صرف پھوٹی کوڑی ہی رہ گئی تھی اور مَرتے ہوئے تو بیوی بچوں کے لیے سر چھپانے کو  چھَت بھی نہیں چھوڑ کر گئے۔

وہ ہمارا آغاز تھا۔ اگر اُس کے بعد جاہل، ظالم اور حرام خور ہم پر حکومت کرنے لگے تو وجہ یہی تھی کہ انگریزوں کے جاتے ہی ہم نے نظامِ تعلیم بدل دیا۔ یہ اچھی بات تھی۔ مگر دانشوروں کی عقلوں پر پتھر پڑے ہوئے تھے کہ نیا نظامِ تعلیم بھی مغربی ماہرین ہی سے بنوایا۔ یعنی شکار خود شکاری کے پاس گیا کہ رنجش ہی سہی، دل ہی دُکھانے کے لیے آ۔

ذرا اُردو بازار کا چکر لگا کر پرانی درسی کتابیں تلاش کیجیے۔ معلوم ہو گا کہ 1953کے لگ بھگ ہماری درسی کتابیں موسسہ فرینکلن کی مدد سے تیار ہونے لگی تھیں۔ سِلور برڈٹ کمپنی دیدہ زیب کتابیں اُردو میں تیار کر کے ہمیں دے رہی تھی۔ غیر کی دہلیز پر ماتھا ٹیکنے سے معیارِ تعلیم بلند ہو رہا تھا۔

ہمارا معیارِ تعلیم اُسی طرح بلند ہوا جیسے تصویر میں گدھے کے پاوں بلند ہوئے ہیں۔ تعلیم نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ اپنے ملک کی گاڑی کو دو قدم بھی آگے کیسے بڑھایا جاتا ہے۔ اپنے معاشرے کے لیے کوئی نئی راہ اختیار کرنی ہو تو کیسے کرتے ہیں؟

آپ نے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ملک پر حکومت کیسے کی جاتی ہے؟ نہیں معلوم ناں۔ آئیے اِسی بات پر ویڈیو دیکھتے ہیں:

1 comment:

rIZ said...

baja farmaya... ye un logon k lye hai jinhen shayed apki baat sahi nahi lagi hai:

"Nowadays, we are working on creating human RESOURCE, but not human"

Insan aik "resource" hai. Kaam karega, paisa milega, nahin karega, resource depletion, koi aur "resource(maal)" laga dya jayega business main.

Pakistan is focusing more on creating this "cheap" resource (most the countries of the world as well)

Manen ya na manen, baat such hai.