Pages

Monday, 5 December 2011

امام حسین

علامہ اقبال نے 'رموزِ بیخودی' میں بتایا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت  کا مقاصد دنیا میں اُخوت، مساوات اور آزادی کا فروغ تھا۔ ان تینوں قدروں کے بارے میں اسلامی تصور کو علامہ نے ایک ایک تاریخی حکایت سے واضح کیا ہے۔ آزادی کے تصور کی وضاحت کے لیے کربلا کا واقعہ بیان کیا ہے۔ اس باب کا ترجمہ درجِ ذیل ہے۔ 

اِسلامی آزادی اور حادثہ ء کربلا کے راز کے بارے میں

جس کسی نے بھی ھُوَالمَوجُود کے ساتھ پیمان باندھا اُس کی گردن ہر معبود کے طوق سے آزاد ہو گئی۔
مومن عشق سے ہے اور عشق مومن سے ہے۔ ہمارا ناممکن عشق کے لیے ممکن ہے۔ 
عقل سفاک ہے اور عشق اُس سے بھی زیادہ سفاک ہے۔ زیادہ پاک، زیادہ چالاک اور زیادہ بیباک ہے۔
عقل اسباب اور وجوہات کے چکر میں پڑی ہوئی ہے ۔ عشق میدانِ عمل کا کھلاڑی ہے۔
عشق اپنے شکار کو زورِ بازو سے پکڑ لیتا ہے ۔ عقل مکار ہے اور جال پھینکتی ہے۔ 
عقل کا کام نااُمیدی اور شک سے نکلتا ہے۔ عشق کے لیے عزم اور یقین ناگزیر ہیں۔ 
وہ ویران کرنے کے لیے تعمیر کرتی ہے۔ یہ تعمیر کرنے کے لیے ویران کرتا ہے۔ 
عقل دنیا میں ہوا کی طرح عام ہے۔ عشق کمیاب اور مہنگا ہے۔
عقل کیسے اور کتنے کی بنیاد پر قائم ہے۔ عشق کے جسم پر کیسے اور کتنے کا لباس نہیں ٹھہرتا۔ 
عقل کہتی ہے اپنے آپ کو پیش کرو۔ عشق کہتا ہے اپنا امتحان لو۔
عقل اکتسابی ہے اس لیے غیر سے آشنا ہے۔ عشق خدا کی دین ہے اور اپنے آپ سے کام رکھتا ہے۔ 
 عقل کہتی ہے خوش رہو، آباد رہو۔ عشق کہتا کہ بندگی اختیار کرو تاکہ آزاد ہو جاو۔ 
عشق کی روح کا آرام آزادی میں ہے۔ آزادی اُس کی اونٹنی کی ساربان ہے۔

کیا تم نے سُنا کہ جنگ کے وقت عشق نے ہوس پیشہ عقل کے ساتھ کیا کیا؟
وہ عاشقوں کے امام، جنابِ بتولؓ کے لختِ جگر، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں آزادی کا درخت-
اللہ کی شان دیکھو کہ باپ بسم اللہ کی ب اور بیٹا ذبحِ عظیم والی آیت کی تفسیر ہے
سب سے بہتر ملت کے اُس شہزادے کے لیے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاندھا سواری کا نعم البدل بن گیا۔ 
غیرتمند عشق اُس کے لہو سے سرخ ہے۔ اُس کے مضمون سے اِس مصرع کی شوخی ہے۔
وہ عالی مرتبت ہستی اُمت میں ایسے ہے جیسے اُم الکتاب میں قل ھو اللہ احد!
موسیٰ اور فرعون، شبیر اور یزید دو قوتیں ہیں جو زندگی سے پیدا ہوتی ہیں۔ 
حق شبیر کی قوت سے زندہ ہے۔ باطل کا انجام ناکامی کی موت کا داغ ہے۔ 
جب خلافت نے قرآن سے رشتہ توڑ لیا تو آزادی کے منہ میں زہر ڈل گیا۔ 
تب خیرُ الاُمم کا وہ جلوہ آرا کعبہ کے بادل کی طرح اپنے دامن میں مینہ سمیٹ کر اُٹھا۔
کربلا کی زمین پر برسا اور گزر گیا۔ ویرانوں میں لالے کے پھول اُگائے اور گزر گیا۔ 
قیامت تک کے لیے استبداد کا خاتمہ کر گیا۔ اُس کے لہو کی موج نے باغ کھِلا دیا۔
حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹ گیا اور یوں لا الٰہ کی بنیاد مضبوط کر دی۔ 
اگر آپؓ کا مدّعا سلطنت ہوتی تو آپ کبھی ایسے سازو سامان کے ساتھ سفر نہ کرتے،
آپؓ کے دشمن صحرا کی ریت کے ذروں کی طرح لاتعداد اور آپ کے ساتھی ”یزداں“ کے لفظ کے ہم عدد یعنی صرف بہتّر۔ 
آپؓ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا راز تھے یعنی آپ اُس اجمال کی تفصیل تھے۔
آپؓ کا عزم کوہساروں کی طرح ڈٹا ہوا، ثابت قدم، چٹیل اور کامیاب تھا۔ 
تلوار صرف دین کی عزت کے لیے ہے ۔ اُس کا مقصد قانون کی حفاظت کے سوا کچھ اور نہیں۔
مسلمان اللہ کے سوا کسی کا غلام نہیں ہے۔ فرعون کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ 
آپؓ کے لہو نے اِس راز کی تفسیر بیان کر دی۔ سوئی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا۔ 
جب آپؓ نے ”لا“ کی تلوار میان سے نکالی تو باطل کے سرپرستوں کی رگوں سے لہو کھینچ لیا۔
اِلا" کا نقش صحرا پر لکھ دیا۔ وہ ہماری آزادی کے عنوان کی سطر بن گئی۔" 
 ہم نے قرآن کے چُھپے ہوئے معنی حسینؓ سے سیکھے ہیں۔ آپؓ کی آگ سے شعلے اکٹھے کیے ہیں۔ 
شام کی شوکت اور بغداد کی شان رخصت ہو گئی۔ غرناطہ کی سطوت بھی یاد سے محو ہو گئی۔ 
تب بھی ہمارے ساز کے تار آج تک آپؓہی کے مضراب سے ہل رہے ہیں۔ آپ ہی کی تکبیر سے آج تک ہمارے ایمان تازہ ہیں۔ 
اے صبا! اے دُور پڑے ہوو ں کی قاصد! ہمارے آنسو لے جا کر اُن کی خاکِ پاک پر 
برسا دے۔


رموز بیخودی از علامہ اقبال۔ ترجمہ خرم علی شفیق 

2 comments:

Khurram Ali Shafique said...

This post is to commemorate the martyrdom of Imam Husain, 10th of Moharram.

The post about Mir's poem and Iqbal's 'Shikwah', which was announced in the previous post will be uploaded in two days.

tariq mian said...

Khuram sahib,
The most inspirational poetry of Hakim ul ummat is full of messages and source of good information.
Actually, Allam sahib's kalaam is tafseer ul Quran.
Shahadah of Ahle bait including Imam Hussain (raziAllaho Anho) is the best example of standing up for nothing but the TRUTH and DEEN.


Jazaak Allah Khair