Pages

Saturday, 3 December 2011

میر کے دین و مذہب کو

میر تقی میر کا غم انفرادی اور ذاتی تھا
یا پورے مسلمان معاشرے کے غم
انہوں نے اکٹھے کیے تھے؟
ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
میر تقی میر اور مرزا غالب کے یہاں عشق و عاشقی اور رونے دھونے کے سِوا کیا رکھا ہے؟ آج یی غلط فہمی دُور کیجیے۔ 

جب ایک نئی نظریاتی مملکت وجود میں آتی ہے تو اُسے اپنے تمام علوم کو اپنے نظریے کی روشنی میں از سرِ نَو دیکھنا پڑتا ہے۔ کمیونسٹ ملکوں نے تو آسمانی صحیفوں کی تفسیر بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے دائرے میں کر کے رکھ دی تھی۔ 


بھارت نے بھی میر اور غالب وغیرہ کو اُس ہندی نیشنلزم کی روشنی میں دیکھا ہے جو 1885میں کانگریس کے قیام سے پہلے پورے ہندوستان میں کہیں موجود نہ تھا۔ مگر افسوس کہ پاکستانی دانشور اپنے فرض سے غافل رہے۔ 


پاکستان، قوم سے محبت کے نظریے پر قائم ہوا چنانچہ پاکستان کی ضرورت ہے کہ تمام بڑے شاعروں کی شاعری کو اِس معیار پر جانچا جائے کہ اگر اُن کے اشعار میں محبوب کی جگہ قوم کو رَکھ دیا جائے تو کوئی خاص معانی نکلتے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں نکلتے تو وہ شاعر ہمارے کام کا نہیں ہے۔ اگر نکلتے ہیں تو کام کا ہے۔

میر تقی میر اٹھارہویں صدی کی دہلی میں رہتے تھے۔ صدیوں سے یہاں فارسی بولنے کا رواج تھا۔ ہمارے دل و دماغ میں ایران ہر طرح کے حسن و نزاکت کی آماجگاہ تھا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ ایرانی شہنشاہ نادر شاہ کے سپاہی دہلی میں قتل عام کرنے لگے۔ شرفا کی عزتیں برباد ہو گئیں۔ بازاروں میں لاشوں کے انبار لگ گئے۔ یہی سب کچھ بعد میں نادر شاہ کے جانشین احمد شاہ ابدالی کے سپاہیوں نے بھی کیا [نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی دونوں کو اُن کے بعض اچھے کارناموں کی وجہ سے علامہ اقبال نے جنت الفردوس میں دکھایا ہے مگر وہ ایک علیحدہ بات ہے جس پر کبھی اور عرض کروں گا]۔ 

میر تقی میر کے دل و دماغ میں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوا: میں ایک ہندی مسلمان ہوں تو میرا باقی اُمتِ مسلمہ سے کیا رشتہ ہے؟

میر نے بیہودہ اور فضول اشعار بھی لکھے ہوں مگر جب وہ اپنے وجود کی گہرائی میں ڈوبتے ہیں تو اُن کا وجود ہندوستان [اور آج کے پاکستان] کے مسلمانوں کا نمایندہ بن جاتا ہے۔ محبوب وہ بین الاقوامی مسلمان برادری جو کل تک ہمیں سر 
آنکھوں پر بٹھاتی تھی مگر آج گھاس نہیں ڈالتی، ہم پر ظلم کرتی ہے۔

دکھائی دیے یوں کہ بیخود کیا
ہمیں آپ سے بھی جُدا کر چلے

یہاں "آپ"سے مراد "اپنے آپ"ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ میر کہیں بیٹھ کر دوقومی نظریے کا درس دیا کرتے تھے۔ بات یہ ہے کہ وہ جس معاشرے کا حصہ تھے وہ پوری دنیا کی مسلمان برادری سے کچھ اِسی طرح جُڑا ہوا تھا کہ اُس معاشرے کے ایک حساس فرد کے ضمیر کی تہہ میں اِس رشتے کا عکس دکھائی دینا لازمی بات تھی۔ 

میر کی اہمیت یہ ہے کہ اگر ہم اُن کے ضمیر میں جھانک کر برصغیر کے مسلمان معاشرے کا باقی دنیا کے مسلمانوں یعنی اپنے محبوب کے ساتھ رشتہ تلاش کریں تو وہ رشتہ ہمیں اِس سوال کی صورت میں ملتا ہے: کیا ہم برِ صغیر کے مسلمان بین الاقوامی مسلمان برادری سے رشتہ توڑ کر ہندی قومیت اپنا لیں؟

میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو اُن نے تو
قشقہ کھینچا، دَیر میں بیٹھا، کب کا تَرک اسلام کیا

یہ شعر ذرا غور سے پڑھیے، اسلام کی دولت ہاتھ سے جانے کا افسوس اور درد جس طرح اِس شعر میں جھلکتا ہے وہ صرف محسوس کرنے کی چیز ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہی سوال ڈیڑھ دو سو برس بعد برصغیر کے تمام مسلمانوں کے سامنے آیا اور اُنہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں ہم اپنی اسلامی قومیت پر جان، مال، عزت ناموس سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ واقعہ کہ کروڑوں مسلمانوں نے اسلامی قومیت پر سب کچھ قربان کر دیا بذاتِ خود انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعات میں سے ہے۔ 

مغربی محققین تو یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مسلمان پاگل ہو گئے تھے اور بھارتی مورخ بھی یہی دُہرا دیتے ہیں لیکن اگر ہم پاگل ہو گئے تھے تب بھی اِتنے بڑے پاگل دس بیس برسوں میں نہیں بنتے۔ کم سے کم دو تین سو برس پیچھے سے وجوہات تلاش کرنی پڑیں گی۔ ادب، فن، جذبات، محسوسات، ذہنی رویے اور دل کی دھڑکنیں آخر کس کس طرح پروان چڑھتے رہے تھے کہ اِتنی بڑی دیوانگی ہم سے سرزد ہوئی جس پر ہمیں دونوں جہانوں میں فخر ہو سکے۔  


زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

تب شاید ہمیں معلوم ہو کہ میر تقی میر نے محسوس کر لیا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو نشہ اِسی اسلامی قومیت کا ہے اور یہ نشہ اِتنا زیادہ ہے کہ اب اس میں اضافے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، اب کام بن چُکا ہے۔


آج بھی پاکستانی مسلمان شاید دنیا کا آخری مسلمان ہے جو علاقائی وطنیت پر فِدا ہونے کی بجائے ملتِ اسلامیہ کا روگ سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ ایرانی ہمیں گھاس نہیں ڈالتا، افغانی ہمارا نام آتے ہی گالیاں بکنا شروع کر دیتا ہے، عرب ہمیں حقیر سمجھتا ہے اور افریقی ہمیں غیر کہتا ہے مگر ہم ہیں کہ پھر بھی اسلامی وحدت کے نام پر ان میں سے کسی کے لیے بھی گھربار دوبارہ لٹانے پر تیار ہیں۔ اسلامی قومیت کو ایک نشہ سمجھ لیا جائے تو ہر پاکستانی دنیائے اسلام سے آج بھی کہہ سکتا ہے کہ

یارو مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں
اب جام دو تو خالی ہی دو میں نشے میں ہوں


اگر آپ اب بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ کیا میر کی شاعری میں واقعی اِتنی توانائی ہو سکتی ہے تو جواب یہی ہے کہ علامہ اقبال کی نظم "شکوہ" بھی میر ہی کی ایک مشہور نظم سے ماخوذ ہے۔ 


یہ بات علامہ کے قریبی دوست شیخ عبدالقادر نے ایک مضمون میں وضاحت کے ساتھ بیان کی۔ وہی شیخ عبدالقادر جنہوں نے بانگِ درا کا دیباچہ لکھا تھا۔ اب پہلے میر کی وہ نظم تلاش کیجیے، پھر بات آگے بڑھے گی۔ 


مگر آپ کہاں تلاش کریں گے، میں ہی اگلی پوسٹ میں بتا دوں گا۔

6 comments:

tariq mian said...

Khuram sahib, your effort to bring the poet to our notice is marvallous.
I read Mir Taqi Mir, Mirza Ghalib, Mir Dard in Chaman zar-e-ghazal.
Thanks for refreshing our memory.

usama ahmed said...

Khurram bahi,

I came to know your blog through random google search on "lahore" and "poets" together.Your posts are very interesting and they actually tempted me to not only read 4 or 5 of them in quick short, but compelled me to write a reply to you and get in touch with you.
This particular post is very unique is its content and the thought is definitely not common.

Do tell me where did you get your knowledge from , what have been your sources for history? I will like to personally get in touch with you.
Anxiously waiting to hear from you.

High Regards,
Usama Ahmed

Khurram Ali Shafique said...

Dear Usama,

As a research scholar I am supposed to generate new knowledge through systematic application of well-accepted principles :).

What you see here is mostly my own interpretation based on the ideas presented by Iqbal. Further details are available in my published books, especially my series of Iqbal's detailed biography in six volumes which is being published by Iqbal Academy Pakistan (two volumes are already out).

Please feel free to email me at khurramsoffice@yahoo.com or khurramsdesk@gmail.com

Regards

Ahmad Safi said...

محترم خرم بھائی آپ نے لکھا:۔
’لیکن ظاہر ہے کہ یہی سوال ڈیڑھ دو سو برس بعد برصغیر کے تمام مسلمانوں کے سامنے آیا اور اُنہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں ہم اپنی اسلامی قومیت پر جان، مال، عزت ناموس سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ واقعہ کہ کروڑوں مسلمانوں نے اسلامی قومیت پر سب کچھ قربان کر دیا بذاتِ خود انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعات میں سے ہے۔ ۔۔۔۔

اب میر کی اسی غزل کے یہ دو اشعار اور زیادہ کھل کر سمجھ میں آگئے:۔


وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اُٹھا کر چلے

بہت آرزو تھی گلی کی تری
سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے

احمد صفی

M.Rizwan Memon said...

Interesting comparison...

@Ahmad Safi:
Yes, it matches as well.

Phir se Mir Taqi Mir ko parhna parega.

Ranu said...

By the time I got around to reading the first paragraph of Mir's deen and mazhab and attempted to go forward I could not retain the first paragraph.Now this to me means I will keep going forward and leaving behind what I read.
I will have to keep reading the Urdu script to get used to these weird formation of letters.
Oops sorry if I have offended you.